استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 494

استفتاء — Page 130

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۳۰ استفتاء ۲۲ اول ان کو دلیر کر دے گا اور پھر ذلت پر ذلت پہنچائے گا اور پھر فرمایا کہ خدا بہتر مکر کرنے والا ہے اور پھر فرمایا کہ اس وقت پادریوں کی طرف سے ایک فتنہ ہوگا اور وہ ایک پر جوش بلوہ کی صورت میں تکذیب کریں گے۔ سو اس فتنہ کے وقت صبر کر جیسا کہ اولو العزم نبی صبر کرتے رہے اور دعا کر کہ خدایا میرا صدق ظاہر کر ۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ مکر سے مراد وہ لطیف اور مخفی تدبیر ہے جو دشمن کو ذلیل یا معذب کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ظہور میں آتی ہے۔ بعض وقت نادان دشمن ایک جھوٹی خوشی سے مطمئن ہو جاتا ہے مگر خدا کی مخفی تدبیر جو دوسرے لفظوں میں مکر کہلاتی ہے اسے کہتی ہے کہ اے نادان کیوں خوش ہوتا ہے دیکھ تیری ذلت کے دن نزدیک آ رہے ہیں تب تیری خوشی غم سے مبدل ہو جائے گی ۔ غرض یہ پہلا فتنہ ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں لکھا گیا اور میرے پر گذر چکا۔ دوسرا فتنہ وہ ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے۔ و اذ یمکر بک الذی | كفر اوقد لي يا هامان لعلى اطلع على اله موسى و انى لاظنه من الكاذبين۔ تبت يدا ابي لهب و تب ما كان له ان يدخل فيها الا خائفا۔ وما اصابك فمن الله الفتنة ههنا | فاصبر كما صبر اولوا العزم۔ الا انها فتنة من الله ليحب حبا جما۔ حبا من الله العزيز الاكرم عطاء اغير مجذوذ - یعنی یاد کر وہ زمانہ جب ایک مکفر تجھ سے مکر کرے گا جو تیرے ایمان سے انکاری ہے اور کہے گا اے ہامان ! میرے لئے آگ بھڑ کا ( یعنی تکفیر کی آگ بھڑ کا ۔ ہامان سے مراد نذیر حسین دہلوی ہے ) میں چاہتا ہوں کہ موسیٰ کے خدا پر اطلاع پاؤں کیونکہ میں خیال کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ ہلاک ہو گیا ابولہب اور اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے ( جن سے کفر کا فتوی لکھا ) اس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس تکفیر کے کام کے کام میں دخل دیتا دیتا اور جو کچھ تجھے پہنچے گا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس جگہ ایک فتنہ ہوگا ۔ پس صبر کر جیسا کہ اولوا العزم نبیوں نے صبر کیا ۔ یا د رکھ کہ یہ فتنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا تا وہ تجھے حد سے زیادہ دوست رکھے ۔ دیکھ یہ کیسا مرتبہ ہے کہ خدا ۲۳ کسی کو دوست رکھے ۔ وہ خدا جس کا نام عزیز اکرم ہے۔ یہ وہ بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں کی جائے گی ۔ فرعون سے مراد محد حسین ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشف ظاہر کر رہا ہے کہ وہ بالآخر ایمان لائے گا مگر مجھے معلوم نہیں کہ وہ ایمان فرعون کی طرح صرف اسی قدر ہوگا کہ آمنت بالذی آمنت به بنوا اسرائیل یا پرهیزگار لوگوں کی طرح ۔ واللہ اعلم منه ☆