استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 494

استفتاء — Page 128

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۲۸ استفتاء ۲۰ عملداری اس ملک میں آئی ہے اس کی نظیر کسی وقت میں نہیں پائی جاتی اور صرف اسی پر اکتفا نہیں تھی بلکہ پشاور سے لے کر بمبئی کلکتہ الہ آباد وغیرہ میں بڑے بڑے جلسے کئے اور اخباروں میں محض افترا کے طور پر واقعات شائع کئے اور جاہل مولویوں اور عوام کالانعام کو برانگیختہ کیا اور ہزاروں اشتہار جو لعنتوں سے بھرے ہوئے تھے ملک میں تقسیم کئے اور لوگوں پر یہ اثر ڈالنا چاہا کہ دین اسلام ہیچ ہے اور بعض مولوی دنیا کے کتے ان کی ہاں کے ساتھ ہاں ملانے لگے اور یہ فتنہ تمام فتنوں سے بڑھا ہوا تھا کیونکہ اس میں صرف میری ذات پر ہی حملہ نہیں تھا بلکہ بڑا مقصد یہ تھا کہ اسلام کو ذلیل اور حقیر کر کے دکھلائیں ۔ مولوی یہودی صفت ان کے ساتھ تکذیب میں شامل ہو گئے اور کہا کہ اگر عیسائی تکذیب کریں تو کیا حرج ہے یہ شخص تو خود کافر ہے۔ اور حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ عیسائی اس راقم کو بھی مسلمان جانتے ہیں ۔ غایت کار مسلمانوں میں سے ایک فرقہ کا سرگروہ خیال کرتے ہیں سو ان ظالموں نے ناحق میری دشمنی سے عیسائیوں کی زبان سے دین اسلام سے ٹھٹھے کرائے بلکہ بار باران کو نالش کرنے کے لئے ترغیب دی۔ دوسرا فتنہ۔ جو دوسرے درجہ پر ہے شیخ محمد حسین بٹالوی کا فتنہ ہے اس ظالم نے بھی وہ فتنہ برپا کیا کہ جس کی اسلامی تاریخ میں گذشتہ علماء کی زندگی میں کوئی نظیر ملنی مشکل ہے محبط الحواس نذیر حسین کی کفرنامہ پر مہر لگوائی ۔ صدہا مسلمانوں کو کافر اور جہنمی قرار دیا اور بڑے زور سے گواہیاں ثبت کرائیں کہ یہ لوگ نصاری سے بھی کفر میں بدتر ہیں تمام رشتے ناطے ٹوٹ گئے ۔ بھائیوں نے بھائیوں کو اور باپوں نے بیٹوں کو اور بیٹوں نے باپوں کو چھوڑ دیا۔ اور ایسا طوفان فتنہ کا اٹھا کہ گویا ایک زلزلہ آیا جس سے آج تک ہزاروں خدا کے نیک بندے اور دین اسلام کے عالم اور فاضل اور متقی کافر اور جہنم ابدی کے سزاوار سمجھے جاتے ہیں ۔ !!! تیسرا فتنہ ۔ جو تیسرے درجہ پر ہے آریوں کا فتنہ ہے جو ایک چمکدار نشان کے ساتھ ہوا اور یہ فتنہ اس لئے تیسرے درجہ پر ہے کہ با وجود سخت بلوہ کے اس کے ساتھ فتح کا نمایاں نشان تھا۔ یہ سچ ہے کہ اس میں ہندوؤں کا بڑا شور و غوغا ہوا اور بار بار قتل کرنے کی دھمکیاں دیں اور گالیوں سے بھرے ہوئے خط بھیجے ۔ کئی اخباروں میں حد سے زیادہ سخت گوئی کی گئی اور پھر آخر گورنمنٹ کی معرفت خانہ تلاشی کرائی گئی مگر با وجود ان سب باتوں کے فتح کا جھنڈا ہمارے ہاتھ میں رہا۔ وہ معاہدہ جو سکھرام کے ساتھ مذہبی آزمائش کے لئے بذریعہ آسمانی نشان کے کیا گیا تھا اس کی رو سے ہمارے مولیٰ کریم نے ہندوؤں پر ہماری ڈگری کر کے بڑی صفائی سے ہمیں فتح دی اور جیسا کہ پہلے سے براہین احمدیہ میں یہ الہام تھا کہ اگر خدا ایسا نہ کرتا یعنی ایسا