استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 494

استفتاء — Page 124

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۲۴ استفتاء ۱۶ غرض اس پیشگوئی کے سر پر یہ چند شعر ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بترس از تیغ بر ان محمد جو صاف بتلا رہا ہے کہ لیکھرام کا انجام یہی تھا کہ وہ قتل کیا جائے اور اخیر کے شعر پر لیکھرام کی طرف اشارہ کر کے ہاتھ بنایا ہوا ہے جیسا کہ اس جگہ بنا دیا گیا ہے تا یہ اشارہ ہو کہ تیخ بر ان اسی پر پڑے گی اور اسی کی موت سے کرامت ظاہر ہوگی ۔ پھر برکات الدعا کے صفحہ ۲۸ میں چند شعروں میں سید احمد خاں صاحب پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ پیشگوئی لیکھرام میں دعائے مستجاب کے نمونہ کی انتظار کریں اور آخری شعر کے نیچے دکھینچ کر ان صفحات برکات الدعا کی طرف سید صاحب کو توجہ دلائی گئی ہے جن میں لیکھرام کی ہیبت ناک موت کا ذکر کر کے نمونہ دعائے مستجاب کا ذکر ہے اور وہ شعر یہ ہیں۔ روئے دلبر از طلب گاران نمی دارد حجاب می درخشد در خور و می تابد اندر ماهتاب لیکن این روئے حسین از غافلان ماند نهان عاشقی باید که بردارند از بهرش نقاب دامن پاکش ز نخوت ها نمی آید بدست پیچ را ہے نیست غیر از عجز و درد و اضطراب بس خطرناک است راه کوچه یار قدیم جان سلامت بایدت از خود روی با سر بتاب تا کلامش عقل و فهم نا سزایان کم رسد هر که از خود گم شود او یا بد آن راه صواب مشکل قرآن نه از ابناء دنیا حل شود ذوق آن کے داند آں مستے کہ نوشد آن شراب ایک آگاهی ندادندت از انوار درون در حق ما ہر چہ گوئی نیستی جائے عتاب از سر وعظ و نصیحت این سخن ها گفته ایم تا مگر زیں مرہمے بہ گردد آن زخم خراب از دعا کن چاره آزار انکار دعا چون علاج کے زِ کے وقت خمار و التہاب ایکہ کوئی گر دعا ها را اثر بودے کجاست سوئے من بشتاب بنمایم ترا چون آفتاب ہاں مکن انکار زین اسرار قدرتہائے حق قصہ کو تہ کن به بین از ما دعائے مستجاب دیکھو صفحہ ۲ ۳ ۴ سر ورق یہ آخری شعر کا دوسرا مصرعہ جس کے نیچے مد ڈال کر نمبر ۲ ۳ ۴ لکھے گئے ہیں یہ برکات الدعا میں اسی طرح مد ڈال کر لکھے گئے ہیں تا سید احمد خان صاحب ان صفحات کو نکال کر پڑھیں اور تا انہیں نمونہ دعائے مستجاب پر غور