استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 494

استفتاء — Page 117

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۱۷ استفتاء چیز کا سہارا نہیں ۔ پھر جب قرآن شریف یہ فرماتا ہے تو عرش کا اعتراض کرنا کس قدر ظلم ہے آپ عربی سے 9 بے بہرہ ہیں آپ کو مکر کے معنے بھی معلوم نہیں ۔ مکر کے مفہوم میں کوئی ایسا نا جائز امر نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔ شریروں کو سزا دینے کیلئے خدا کے جو باریک اور مخفی کام ہیں ان کا نام مکر ہے ۔ لغت دیکھو پھر اعتراض کرو۔ میں اگر بقول آپ کے وید سے اُمی ہوں تو کیا حرج ہے کیونکہ میں آپ کے مسلم اصول کو ہاتھ میں لے کر بحث کرتا ہوں مگر آپ تو اسلام کے اصول سے باہر ہو جاتے ہیں۔ صاف افتراء کرتے ہیں ۔ چاہیے تھا کہ عرش پر خدا کا ہونا جس طور سے مانا گیا ہے اول مجھ سے دریافت کرتے پھر اگر گنجائش ہوتی تو اعتراض کرتے اور ایسا ہی مکر کے معنے اول پوچھتے پھر اعتراض کرتے اور نشان خدا کے پاس ہیں وہ قادر ہے جو آپ کو دکھلاوے ۔ والسلام علی من اتبع الهدی ۔ خاکسار ۔ میرزا غلام احمد ۔ اور وہ معاہدہ جو نشانوں کے دیکھنے کے لئے اس راقم اور لیکھرام کے مابین تحریر پایا تھا اس کا عنوان جو لیکھرام نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا یہ ہے: ☆ ساره اوم پر ماتمنے نم ہی سچد اند سیروپ پر ما تماست کا پرکاش کر اور است کا ناش کرتا کہ تیری ست و یدو د یا سب سنسار میں پر مرت ہوئے۔ پھر بعد اس کے اس طول طویل معاہدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی پیشگوئی لیکھرام کو بتلائی جائے اور وہ بچی نہ ہو تو وہ ہندو مذہب کی سچائی کی دلیل ہوگی اور فریق پیشگوئی کرنے والے پر لازم ہوگا کہ آریہ مذہب کو اختیار کرے یا تین سو ساٹھ روپیہ لیکھرام کو دے دے جو پہلے سے شرمیت ساکن قادیان کی دوکان پر جمع کرا دینا ہوگا ۔ اور اگر پیشگوئی کرنے والا سچا نکلے تو اسلام کی سچائی کی یہ دلیل ہو گی اور پنڈت لیکھرام پر واجب ہوگا کہ مذہب اسلام قبول کر ۔ پھر بعد اس کے وہ پیشگوئی بتلائی گئی جس کی رو سے ۶ ر مارچ ۱۸۹۷ ء کولیکھرام کی زندگی کا خاتمہ ہوالیکن پہلے اس سے جو وہ پیشگوئی لیکھرام پر ظاہر کی جاتی مکر را بذریعہ اشتهار ۲۰ رفروری ۱۸۸۶ ء ان کو اطلاع دی گئی تھی کہ اگر ان کو پیشگوئی کے ظاہر کرنے سے رنج پہنچے تو اس کو ظاہر نہ کیا جائے مگر لیکھر ام نے بڑی شوخی اور دلیری سے جیسا کہ اشتہار ۲۰ رفروری ۱۸۹۳ء میں اس بات کا ذکر ہے ایک کارڈ اپنا دستخطی میری طرف روانہ کیا کہ ” میں آپ کی پیشگوئیوں کو واہیات سمجھتا ہوں یہ لیکھرام نے پیشگوئی کے انجام کے لئے دعا کی تھی کہ اگر اسلام سچا ہے تو ان کی پیشگوئی بچی نکلے اور اگر ہندو مذہب سچا ہے تو ان کی پیشگوئی جو کریں گے جھوٹی نکلے۔ اب ہم ناظرین سے پوچھتے ہیں کہ اگر اس لیکھرام والی پیشگوئی کو جھوٹی سمجھا جائے تو کس فریق پر اس دعا کا بداثر پڑے گا۔ منہ ☆ * یہ شرط جو لیکھر ام اسلام کو قبول کرے یہ اس وقت کی شرط ہے جبکہ کچھ معلوم نہ تھا کہ جو پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگی اس کا مضمون کیا ہوگا ۔ منہ