عصمتِ انبیاءؑ — Page 593
۲۱۱ روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۸۹ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار یا جس دیس میں میر کیا گیاہوں اس نے مند بدیل ارق مات پیشگویاں یا میں یں جو ا ا ا ا ر میں اتاری اور پیشگوئی نمبر ۸۲ قریباً فروری ۱۹۰۲ء پیشگوئی نمبر ۸۳ ۲۰ مارچ ۱۸۸۸ء زنده گواه رویت نمبر ۸۲ و ۸۳ ایک رات کو مجھے اس طرح الہام ہوا کہ جیسے اخبار عن الغائب ہوتا ہے اور وہ یہ الفاظ تھے انّی أَفِرُّ مع اهلی الیک - یہ الہام سب دوستوں کو سنایا گیا چنانچہ اسی دن خلیفہ نورالدین صاحب کا جموں سے خط آیا کہ اس شہر میں طاعون کا زور پڑ گیا ہے اور میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں کہ اپنے سب بال بچے کو ساتھ لے کر قادیان چلا آؤں لیے ایک دفعہ قادیان کے آریوں نے بہت اصرار کیا کہ کوئی نشان دکھلاؤ اور ہمارے مخالف شرکاء مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین بھی نشان دیکھنے کے طلبگار تھے۔ تب ان سب پر حجت ملزمہ قائم کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر میں نے یہ پیشگوئی کی کہ مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین پر اکتیس ماہ کے اندر ایک سخت مصیبت پڑے گی یعنی ان کی اولاد میں سے کوئی ایسا آدمی مر جائے گا جس کا مرنا ان کے لئے تکلیف اور تفرقہ کا موجب ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب اکتیس ماہ کے پورا ہونے میں ابھی پندرہ دن باقی تھے تو مرز ا نظام الدین کی لڑکی جو کہ امام الدین کی برادر زادی تھی ۲۵ سال کی عمر میں ایک چھوٹا سا بچہ چھوڑ کر مر گئی جس کا صدمہ ان سب پر کا بہت سخت ہوا اور یہ امران کے واسطے اور نیز آریوں کے واسطے ایک بڑا نشان ہوا ہے پیشگوئی قریباً فروری ۱۹۰۲ء اکتوبر ۱۸۹۰ء ا۔ اس الہام کے گواہ بہت سے آدمی ہیں جو اس وقت قادیان میں موجود تھے۔ منجملہ ان کے مولوی نورالدین صاحب ۔ مولوی عبدالکریم صاحب ۔ مولوی محمد علی صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب - حکیم فضل دین صاحب ۔ مولوی شیر علی صاحب وغیرہ ہیں ۔ ہے۔ اس کے گواہ مرزا امام الدین نظام الدین اور قادیان کے بہت سے آریہ ہیں ۔