عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 577 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 577

۱۹۵ روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۷۳ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار ان جس کی اس میں شر کیا گیا ہوں اس نے مندرجہ ذیل خارق ات میگوئیاں لا ئی جو نیا ر ہا ر میں اتاری اور و؟ زنده گواه رویت نمبر ۵۷ کنویه ۱۸ دسمبر ۱۸۹۶ء میں پنجاب کے صدر مقام لاہور میں ایک بڑا بھاری جلسہ مذاہب ہوا جس میں تمام مذاہب کے وکلاء اور نامی آدمی دور و نزدیک سے اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے جمع ہوئے کہ مذاہب مروجہ میں سے کون سا مذہب حق اور بنی آدم کے لئے سب سے زیادہ مفید اور اصل مقصد زندگی انسانی کا حاصل کر ا دینے والا ہے۔ ہم نے بھی اس جلسہ میں سنانے کے لئے ایک مضمون لکھا اور اس مضمون کے متعلق ہمیں قبل از وقت یہ الہام ہوا کہ مضمون سب پر بالا رہا یعنی تمہارا یہ وہ مضم را یہ وہ مضمون ہے جو سہ ہے جو سب پر غالب آئے گا اور پھر یہ الہام تھا الله اكبر خربت خيبر ۔ ان الله معك۔ ان الله يقوم اینما کنت۔ چنانچہ یہ الہام بذریعہ ایک چھپے ہوئے اشتہار مورخہ ۲۱ دسمبر کے قبل جلسہ ہذا ہی دو روز کے اندر ہی دور و نزدیک شائع کیا گیا اور سب لوگوں کو اس بات سے آگاہی دی گئی کہ ہمارا ہی مضمون غالب رہے گا۔ پس ایسا ہی ہوا کہ اس جلسہ میں جس قدر مضامین پڑھے گئے تھے ان سب پر ہمارا مضمون غالب اور فائق رہا اور خود اس جلسہ میں غیر مذاہب کے وکلاء نے بھی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر گواہیاں دیں کہ مرزا صاحب کا مضمون سب پر غالب رہا اور انگریزی اخبار سول ملٹری گزٹ اور پنجاب ابز رور اور دیگر اخباروں نے بڑے زور سے گواہی دی کہ ہمارا مضمون سب مضامین پر غالب رہا۔ پیشگوئی ۲۷ دسمبر ۱۸۹۷ء یہ پیشگوئی قبل از وقت بذریعہ اشتہار کے شائع کی گئی تھی اور موقع پر اس کو پورا ہوتے ہوئے دیکھنے والے ہزاروں آدمی اس وقت ہر ملت و مذہب کے میدان جلسہ میں موجود تھے جنہوں نے اقرار کیا کہ یہ مضمون غالب رہا اور نیز انگریزی واردو اخباروں نے اس امر کی تصدیق کی کہ یہی مضمون سب سے بالا رہا۔ اصل متن میں ۱۸۹۶ء ہے۔ تاریخ بیان پیشگوئی اور تاریخ ظہور پیشگوئی میں سہو کتابت سے ۱۸۹۶ء کی بجائے ۱۸۹۷ لکھا گیا ہے۔ (ناشر)