عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 568 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 568

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۶۴ نزول المسيح تاریخ بیان ۱۸۶ نمبر شمار ان جس کی اس میں شر کیا گیا ہوں اس نے مندرج ذیل خارق عادت میگویاں چلا ئی جو دنیا ظاہر ی میں تاریخ لاہور بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیشگوئی میں کا ذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے میں تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر سولی پر کھینچا جائے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے زیادہ اس سے کیا لکھوں ۔ واضح رہے کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبیاں کی ہیں جن کے تصور سے بدن کانپتا ہے اس کی کتابیں عجیب طور کی تحقیر اور تو ہین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی ہیں کون مسلمان ہے جو ان کتابوں کو سنے اور اس کا دل اور جگر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو با این همه شوخی و خیرگی یہ شخص سخت جاہل ہے عربی سے ذرا مس نہیں بلکہ دقیق اردو لکھنے کا بھی مادہ نہیں۔ اور یہ پیشگوئی اتفاقی نہیں بلکہ اس عاجز نے خاص اسی مطلب کے لئے دعا کی جس کا یہ جواب ملا اور یہ پیشگوئی مسلمانوں کے لئے بھی نشان ہے کاش وہ حقیقت کو سمجھتے اور ان کے دل نرم ہوتے ۔ اب میں اسی خدائے عزوجل کے نام پر ختم کرتا ہوں جس کے نام سے شروع کیا تھا۔ والحمد لله والصلوة والسلام على رسوله محمد المصطفى افضل الرسل وخير الورى سيدنا وسيد كل ما في الارض والسما۔ خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء پیشگوئی لیکھرام والی پیشگوئی قبل از وقت بہت سی کتابوں اور اشتہاروں میں درج ہو چکی تھی جن کا ذکر او پر آچکا ہے اور اس کے گواہ ساری برٹش انڈیا ہے ۔ اب آریوں کو چاہیے کہ سب مل کر دعا کریں کہ یہ عذاب اُن کے اس وکیل سے مل جائے۔