عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 551 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 551

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۴۷ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار یا جس کو اس میں مشرف کیا گیا ہوں اس کی نے مندجہ ذیل خارق عات پیشگویاں لائی میں دنیا اور میں تاریخ لاہور ۲۰ رفروری ۱۸۸۶ء و ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء پیشگوئی نمبر ۴۳ جب عیسائیوں نے آتھم کے نشان کو جو صاف اور روشن تھا اپنے ظلم اور افترا سے پوشیدہ کرنا چاہا اور نادان مسلمان بھی ان کے ساتھ مل گئے اور خدا کے بزرگ نشان کو قبول نہ کیا بلکہ بڑا فتنہ برپا کیا اور اس بات کو کسی نے نہ سوچا کہ پیشگوئی کا اصل مدعا تو یہ تھا کہ کاذب صادق کی زندگی میں ہی مرے گا اور وہ وقوع میں آگیا اور نہ یہ سوچا کہ آتھم نے تو ایک بھری مجلس میں دجال کہنے سے رجوع کر لیا جو اس پیشگوئی کا اصل موجب تھا تو پھر وہ شرط سے کیوں فائدہ نہ اٹھاتا۔ غرض جب خدا کی پیشگوئی کو لوگوں نے مشتبہ کرنا چاہا تو خدا تعالیٰ نے گواہی کے طور پر ایک دوسری پیشگوئی کو ظاہر فرمایا یعنی لیکھرام کی نسبت پیشگوئی جو بہت قوت اور شوکت سے جلالی رنگ میں ظاہر ہوئی ۔ پس واضح ہو کہ منجملہ ہیبت ناک اور عظیم الشان نشانوں کے پنڈت لیکھرام کی ۔ رام کی موت کا نشان ہے ؟ ہے جس کی بنیاد پیشگوئی میری کتابیں برکات الدعاء اور کرامات الصادقین اور آئینہ کمالات اسلام ہیں جن میں قبل از وقوع خبر دی گئی کہ لیکھر ام قتل کے ذریعہ سے چھ سال کے اندر اس دنیا سے کوچ کرے گا اور وہ عید سے دوسرا دن ہوگا تا یہ صورت اس بات پر دلالت کرے کہ جس دن مسلمانوں کے گھر میں عید ہو گی اس سے دوسرے دن ہندوؤں کے گھر میں ماتم ہو گا اور یہ پیشگوئی نہ صرف میری کتابوں میں درج ہو گئی بلکہ لیکھرام نے خود اپنی کتاب میں نقل کر کے پیشگوئی ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ بعد پیشگوئی پوری ہوئی۔ h992761 چ ۱۸۹۷ ء کو یہ پیشگوئی چار سال کے بعد پوری ہوئی ۔ ی پیشگوئی نمبر ۴۳ کے گواہ لاکھو ہیں کیونکہ بذریعہ اشتہارات وکتب جن کا حوال متن میں آیا ہے۔ اس کو کثرت سے شائع کیا گیا تھا اور لیکھرام نے خود بھی اس کو اپنی کتاب میں ١٦٩