عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 507 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 507

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۰۳ نزول المسيح تاریخ بیان جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت تاریخ ظہور ۱۲۵ پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں نمبر شمار پیشگوئی بقیه مضمون پیشگوئی نمبر ۵ پیشگوئی نمبر ۶ زندہ گواہ رویت کے ٧٠٧٧١ ذکر منقطع ہو جائے گا ۔ اور خدا اس خاندان کی بزرگی کی بنیاد تجھ سے ڈالے گا۔ اب بتلاؤ کیا یہ سچ نہیں کہ میری شہرت میرے خاندان کی شہرت سے بہت زیادہ بڑھ گئی اور ہزار ہا مخلوقات کو خدا نے ربقہ اطاعت میں داخل کر دیا اور آج کے دن سے پہلے کون جانتا تھا کہ اس سلسلہ کی اس قدر ترقی ہو جائے گی خاص کر براہین احمدیہ کے زمانہ میں جبکہ نہ کوئی سلسلہ تھا نہ دعوت تھی نہ جماعت تھی نہ شہرت تھی۔ پس افسوس ان پر جو نہیں سمجھتے اور خدا کی عجائب قدرتوں پر غور نہیں کرتے۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم ۔ اني جاعل في الارض خليفة - دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۴۹۲ - یہ پیشگوئی با عتبار مفہوم لفظ آدم کے ہے کیونکہ فرشتوں نے آدم کی خلافت کو منظور نہ کیا ۔ مگر آخر وہی جس کو رد کیا گیا تھا خلیفہ ٹھہرایا گیا اور نامنظور کرنے والوں کی کچھ پیش نہ گئی بلکہ سخت منکر ان میں سے شیطان کہلایا۔ پس لفظ آدم میں اس قصہ کی طرف اشارہ ہے کہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہوگا اور خدا اس خلافت کو اپنے ہاتھوں سے زمین پر جمائے گا۔ اور اس پیشگوئی کا ایک حصہ ازالہ اوہام میں ایک الہام ہے اور وہ یہ ہے ۔ قالوا أتجعل فيها من يفسد فيها و يسفك الدماء قال اني اعلم مالا تعلمون ۔ ان تمام الہامات کا ترجمہ یہ ہے کہ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ زمین پر پیدا کروں ۔ پیشگوئی آج سے آٹھ سال پہلے پیشگوئی نمبر ۵ کا ثبوت گذر چکا اور پیشگوئی نمبر ۶ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آدم کے رنگ پر میرے پر بھی اعتراض ہوں گے اور میری معائب شماری ہو گی اور آخر خدا میری عزت ظاہر کرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور عیب شمار لوگوں کو خائب و خاسر ہونا پڑا اور خدا نے میری تائید کی اور اگر چہ تائید الہی بجائے خود