عصمتِ انبیاءؑ — Page 500
۱۱۸ روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۹۶ نزول المسيح تاریخ بیان جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی تاریخ ظہور نمبر شمار پیشگوئی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں ہزار ہا اُن کے گواہ ہیں جن میں سے بعض اس جگہ لکھے گئے پیشگوئی زندہ گواہ رویت کے کے ۔ نقال کو اٹھائیس برس ہو چکے ہیں بعد اس کے میں نے مرزا صاحب کی تجہیز تکفین سے فراغت کر کے وہ وحی الہی جو تکفل الہی کے بارہ میں ہوئی تھی یعنی الیس الله بکاف عبده اس کو ایک نگینہ پر کھدوا کر وہ مہر اپنے پاس رکھی اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ خارق عادت طور پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور نہ صرف میں بلکہ ہر ایک شخص جو میرے اس زمانہ کا واقف ہے جب کہ میں اپنے والد صاحب کے زیر سایہ زندگی بسر کرتا تھا وہ گواہی دے سکتا ہے کہ مرزا صاحب مرحوم کے وقت میں کہ کوئی مجھے جانتا بھی نہیں تھا اُن کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے اس طور سے میری دستگیری کی اور ایسا میرا متکفل ہوا کہ کسی شخص کے وہم اور خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہونا ممکن ہے ہریک پہلو سے وہ میرا ناصر اور معاون ہوا مجھے صرف اپنے دستر خوان اور روٹی کی فکر تھی مگر اب تک اس نے کئی لاکھ آدمی کو میرے دستر خوان پر روٹی کھلائی۔ ڈاکخانہ والوں کو خود پوچھ لو کہ کس قدر اس نے روپیہ بھیجا ۔ میری دانست میں دس لاکھ سے کم نہیں اب ایمانا کہو کہ یہ معجزہ ہے یا نہیں۔ گئی تھی حکیم صاحب مرحوم کے دوستوں اور اولاد کو بھی یہ واقعہ معلوم ہے اب جو شخص ذرا حیا کو کام میں لا کر یہ سوچے اور تحقیق کرے کہ آج سے ۲۸ برس پہلے یعنی حضرت والد صاحب کے زمانہ میں میں کیا چیز تھا پھر خدا کی اس وحی الیس الله بکاف عبدہ کے بعد خدا نے میری کیسی پرورش کی تو میں یقین نہیں رکھتا کہ اس معجزہ سے بجز اس شخص کے کہ سخت درجہ کا بے حیا ہوا نکار کر سکے ۔ باہر کے لوگوں میں سے بجز دو چار آدمیوں کے کون کہہ سکتا ہے کہ میں جانتا تھا۔