عصمتِ انبیاءؑ — Page 466
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۶۲ نزول المسيح ۸۴ اکثر گذشتہ نبیوں کے معجزات کی نسبت یہ معجزات اور پیشگوئیاں ہر ایک پہلو سے بہت قوی اور بہت زیادہ ہیں ۔ اور اگر کوئی اندھا انکار کرے تو ہم موجود ہیں اور ہمارے گواہ موجود ہیں وليس الخبر كالمعاينة ۔ پھر جس حالت میں صدہا نبیوں کی نسبت ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سبقت لے گئی ہیں تو اب خود سوچ لو کہ اس وحی الہی کو اضغاث احلام اور حدیث النفس کہنا درحقیقت تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوت سے انکار کرنا ہے اور اگر شک ہو تو خدا تعالیٰ کا خوف کر کے ایک جلسہ کرو اور ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سنو اور ہمارے گواہوں کی شہادت رویت جو حلفی شہادت ہو گی قلمبند کرتے جاؤ اور پھر اگر آپ لوگوں کے لئے ممکن ہو تو باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں کسی نبی یا ولی کے معجزات کو ان کے مقابل پیش کرو لیکن نہ قصوں کے رنگ میں بلکہ رویت کے گواہ پیش کرو۔ کیونکہ قصے تو ہندؤں کے پاس بھی کچھ کم نہیں ۔ قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسا کہ ایک گوبر کا انبار مشک اور عنبر کے مقابل پر۔ مگر یاد رکھو کہ ان معجزات اور پیشگوئیوں کی نظیر جو میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے اور ہو رہے ہیں کمیت اور کیفیت اور ثبوت کے لحاظ سے ہرگز پیش نہ کر سکو گے ۔ خواہ تلاش کرتے کرتے مر بھی جاؤ ۔ پھر اگر یہ وحی جس کی تائید میں یہ نشان ظاہر ہوئے خدا کا کلام نہیں ہے تو پھر تو تمہیں لازم ہے کہ دہریہ بن جاؤ اور خدا تعالیٰ کے تمام نبیوں سے انکار کر دو کیونکہ نبوت کی عمارت کی شکست ریخت جس قدر ہو چکی ہے اب خدا تعالیٰ ان تازہ معجزات اور پیشگوئیوں سے سب کی مرمت کر رہا ہے اور اب وہ گزشتہ قصوں کو واقعات کے رنگ میں دکھلا رہا ہے۔ اور منقولات کو مشہودات کا پیرا یہ پہنا رہا ہے تا جو لوگ شکوک کے گڑھے میں گر گئے ہیں دوبارہ ان کو یقین کا لباس پہناوے لہذا جو شخص مجھے قبول کرتا ہے وہ تمام انبیاء اور ان کے معجزات کو بھی ۔ کے معجزات کو بھی نئے سرے قبول کرتا ہے اور جو شخص مجھے قبول نہیں کرتا اس کا پہلا ایمان بھی کبھی قائم نہیں رہے گا کیونکہ اس کے پاس نرے قصے ہیں نہ مشاہدات ۔ خدا نمائی کا آئینہ میں ہوں جو شخص میرے