عصمتِ انبیاءؑ — Page 464
روحانی خزائن جلد ۱۸ ٤٦٠ نزول المسيح اس کا یہی جواب ہے کہ جیسا کہ وحی تمام انبیاء علیہم السلام کی حضرت آدم سے لے کر آنحضرت ۸۲ صلی اللہ علیہ وسلم تک از قبیل اضغاث احلام وحدیث النفس نہیں ہے۔ ایسا ہی یہ وحی بھی ان شبہات ۸۲ سے پاک اور منزہ ہے۔ اور اگر کہو کہ اُس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی معجزات اور پیشگوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں کو ان معجزات اور پیشگوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیشگوئیاں اور معجزات اس وقت محض بطور قصوں اور کہانیوں کے ہیں مگر یہ معجزات اور پیشگوئیاں ہزار ہا لوگوں کے لئے واقعات چشم دید ہیں اور اس مرتبہ اور شان کے ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں یعنی دنیا میں ہزار ہا انسان پر ہم دونوں فریق میں سے لعنت کی ہے وہ اس وقت ہمارے سامنے رکھے ہیں ۔ ، جو پانچ گواہوں کی شہادت سے وہی نوٹ ہیں جو اس نے اپنی قلم سے کتاب اعجاز مسیح اور شمس بازغہ پر لکھے تھے اور خود اصل نوٹ جن کی یہ نقل اس کے باپ نے ان گواہوں کے حوالہ کی اُس کے گھر میں موجود ہے جو اُس کے مباہلہ کی ایک پختہ نشانی ہے جو باوانا تک کے چولہ کی طرح زمانہ دراز تک یادگار رہے گی اور یہ مباہلہ جس کے بعد وہ دو ہفتہ بھی زندہ نہ رہ سکا۔ اُن لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے جواب ہے جو کہا کرتے ہیں کہ ہم اس مباہلہ کو مانیں گے جس کے آخری نتیجہ پر دو تین ہفتہ سے زیادہ طول نہ کھچے ۔ سواب ہم منتظر ہیں کہ وہ اس نشان کو مانتے ہیں یا نہیں اور عجیب تر کہ محمد حسن مباہلہ کے مرا۔ اسی طرح غلام دستگیر قصوری کا حال ہوا تھا کہ اس نے بھی محمد حسن کی طرح میری رڈ میں ایک کتاب بنائی اور اس کا نام فتح رحمانی رکھا اور اس کے صفحہ ۲۷ میں جوش میں آ کر دعا کر دی جس کا یہ خلاصہ ہے کہ یا الہی جو شخص کا ذب ہے اور جھوٹ بول رہا ہے اور سچ کو چھوڑ رہا ہے اس کو ہلاک کر ۔ آمین ۔ تب ایک مہینہ بھی اس کتاب کے لکھنے بعد اس کے وہ کتا بیں محمد حسن کے بیٹے سے ہم کو مل گئیں جن پر اصل نوٹ ہیں یعنی محمد حسن کے بعد خود دستخطی وہ نوٹ ہیں ۔ منہ