عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 446 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 446

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۴۲ نزول المسيح ۶۴ ہو سکتی ہے کہ صرف منہ سے یہ کہہ دیں کہ یہ کتاب غلط ہے یا فلاں کتاب سے بعض فقرے اس کے چرائے گئے ہیں۔ بھلا اس سے اپنا کمال کیا ثابت ہوا اور اگر کمال ثابت نہیں تو کیونکر قبول کیا جائے کہ نکتہ چینی صحیح ہوگی ۔ بلکہ جو شخص ایسے لائق اور کامل انسانوں پر اعتراض کرتا ہے کہ جو لوگ اپنے کمال کا کچھ نمونہ دکھا دیتے ہیں اُس سے زیادہ کوئی دیوانہ اور پاگل نہیں ہوتا۔ اگر انسان ایسا سلطان القلم ہو جائے کہ امور علمیہ اور حکمیہ کو انواع اقسام کی رنگین عبارتوں اور بلیغ فصیح استعارات میں ادا کر سکے اور اُس کو موہبت الہیہ سے نظم اور نثر میں ایک ملکہ ہو جائے اور تکلف اور عجز باقی نہ رہے تو پھر ایسے کمال تام کی حالت میں اگر اُس کی عبارتوں میں مناسب مقاموں اور محلوں میں بعض آیات قرآنی آجائیں یا متقدمین کے بعض امثال یا فقرات آ جاویں تو جائے اعتراض نہ ہوگا کیونکہ اس کی طلاقت لسانی کا کمال ایک ثابت شدہ امر ہے جو دریا کی طرح بہتا اور ہوا کی طرح چلتا ہے۔ وہ لعنتی کیڑا ہے نہ آدمی جو خود بے ہن بے ہنر ہو کر ایسے شخص کی بلاغت اور فصاحت پر اعتراض کرے جس نے بہت سی عربی کتابیں تالیف کر کے بلیغ فصیح عبارت کا معجزہ ثابت کر دکھایا اور ظاہر کر دیا کہ اس کو بلیغ عبارت کی آمد کا معجزہ بحر ذخار کی طرح دیا گیا ہے۔ اس قسم کے خبیث طبع ہمیشہ ہوتے رہے ہیں جو خدا کی کلام پر بھی اعتراض کرتے ہوئے نہیں ڈرے اور باوجود تہی مغز ہونے کے نکتہ چینی سے باز نہ آئے ۔ مثلاً جن خبیث لوگوں نے اعتراض کیا کہ قرآن شریف کی سورۃ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ کے بعض فقرات دیوان امرء القیس کے ایک قصیدہ کا اقتباس ہے یعنی وہ فقرات اس سے لئے گئے ہیں ان کو یہ خیال آنا چاہیے تھا کہ قرآن شریف کے وہ تمام قصے پہلی کتابوں کے جو نہایت رنگین عبارت میں بیان کئے گئے ہیں اور وہ الہیات کے معارف حقائق جو اس میں معجزانہ عبارت میں بیان کئے گئے ہیں وہ عرب کے کس شاعر کی کلام کا اقتباس ہے۔ پس ایسے شخص اندھے ہیں نہ سوجا کھے جو اس کمال کو نہیں دیکھتے جو ایک دریا کی طرح بہتا ہے اور ایک دو فقرہ میں تو ارد پا کر بدظنی پیدا کرتے ہیں یہ لوگ اسی مادہ کے آدمی ہیں جیسا کہ وہ شخص تھا جس کے منہ سے فَتَبْرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَے نکلا تھا اور اتفاقاً وہی آیت نازل ہو گئی تب وہ مرتد ہو گیا کہ میرا ہی فقرہ قرآن میں داخل کیا گیا ۔ اب پیر مہر علی شاہ صاحب کی کرتوت کو دیکھنا چاہیے کہ خود القمر : ۲ - المؤمنون : ۱۵