عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 310

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۰۶ الهدى نفع وجودهم الشريعة الغراء۔ بل تدثر الإسلام ظالعا ذا عدواء۔ في روشن حقہ کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا۔ بلکہ اسلام لنگڑے مریل متعدی مرض والے اونٹ پر سوار ہو کر أرض متعادية موات مرداء بما كان الملوك في سجن الأهواء۔ ایسی زمین میں چلا جس میں نہ سبزہ ہے اور نہ پانی ہے اور سخت نا ہموار ہے اس لئے کہ بادشاہ كــالـمحبوس۔ وعبدة نار الشهوات كالمجوس۔ ومن كان رائعا في خواہشوں کے جیل میں بند ہیں اور مجوسیوں کی طرح خواہشوں کی آگ کے پرستار ہیں۔ اور الأجمة الشيطانية۔ ما له وللرياض الرحمانية؟ فأرى الدين في زمنهم جو شخص شیطانی پیشوں میں چرتا چکتا ہوا سے رحما بلتا ہوا سے رحمانی باغوں سے کیا سروکار ۔ میرے نزدیک ان کمثل جسم ثارت به من الداخل حصبة ودماميل وأنواع البثرات۔ کے وقت میں دین کی مثال اس جسم کی طرح ہے جس پر اندر سے تو چیچک اور پھوڑے اور وجرحه من الخارج كثير من المدى والقنا والمرهفات۔ وأُجْبِي پھنسیاں نکلے ہوں اور باہر سے چھریوں اور نیزوں اور تلواروں نے اُسے زخمی کیا ہو۔ اور اس زرعه المخصب۔ وأحرق عذيـقــه الـمـرجب۔ وكان في زمــان کے سرسبز کھیتوں میں رڈی نکمی چیزیں اگتی ہوں۔ اور اس کے اعلیٰ درجہ کے کھجور کے درخت جلا كحديقة ترتع النواظر في نـواضـرهـــا ۔ ويصقل الخواطر دیئے گئے ہوں۔ اور کبھی وہ ایسا باغ تھا کہ آنکھیں اس کے سرسبز نو نہالوں کو دیکھ دیکھ خوش بشيم مواطـرها۔ وأمــا اليـوم فـهـو كشجرة اتخذت الخفافيش ہوتیں۔ اور اس کے ابرو باراں کو دیکھ کر دلوں کو جلا اور تازگی ملتی تھی۔ لیکن وہی آج اُس درخت کی مانند أو كارها في أظلالها۔ وكعين ما بقيت قطرة من زلالها۔ واشمعلت ہے جس کے سایہ میں چمگادڑوں نے گھونسلے بنائے ہیں اور اس چشمہ کی مانند ہے جس کے خوشگوار للرحل كل شوكة وبركة كانت في هذا الدين۔ وما بقى پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں رہا۔ اور اس دین کی ہر شوکت اور برکت کوچ پر آمادہ ہورہی ہے۔