عصمتِ انبیاءؑ — Page 280
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۷۶ الهدى بل إنه وحى ليس كمثله غيره وإن كان بعده وحيا آخر بلکہ وہ ایسی وحی ہے کہ اس کی مثل اور کوئی وحی بھی نہیں اگر چہ رحمان کی طرف سے اس من الرحمان۔ فإن لله تجليات في إيحائه۔ وإنه ما تجلّى کے بعد اور کوئی وحی بھی ہو۔ اس لئے کہ وحی رسانی میں خدا کی تجلیات ہیں اور من قبل ولا يتـجـلـى مـن بـعـد كـمثـل تـجـلـيـه لـخـاتـم أنبيــائــه ۔ یہ یقینی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلی جیسی کہ خاتم الانبیاء پر ہوئی ایسی کسی پر نہ پہلے (۳۳) وليس شأن وحى الأولياء كمثل شأن وحى الـفـرقـــان ۔ ہوئی اور نہ کبھی پیچھے ہوگی ۔ اور جو شان قرآن کی وحی کی ہے وہ اولیاء کی وحی وإن أُوحي إليهم كلمة كمثل كـلــمــات الـقـرآن ۔ فإن دائرة کی شان نہیں ۔ اگرچہ قرآن کے کلمات کی مانند کوئی کلمہ انہیں وحی کیا جائے ۔ اس لئے کہ قرآن معارف القرآن أكبر الدوائر۔ وإنها أحاطت العلوم كلها کے معارف کا دائرہ سب دائروں سے بڑا ہے۔ اور اس میں سارے علوم اور و جمعت في نفسها أنواع السرائر۔ وبلغت دقائقها إلى المقام ہر طرح کی عجیب اور پوشیدہ باتیں جمع ہیں اور اس کی دقیق باتیں بڑے اعلیٰ العميق الغائر۔ وسبق الكل بيــانـا وبـرهـانا وزاد عرفانا و درجہ کے گہرے مقام تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اور وہ بیان اور برہان میں سب سے بڑھ کر اور اُس إنه كلام الله المعجز ما قرع مثله آذانا ۔ ولا يبلغه قول میں سب سے زیادہ عرفان ہے اور وہ خدا کا معجز کلام ہے جس کی مثل کانوں نے نہیں سنا اور اس الجن والإنس شأنا۔ فمثل القرآن وغير القرآن كمثل کی شان کو جن وانس کا کلام نہیں پہنچ سکتا۔ سوقرآن اور دوسرے کلام کی مثال اس رویا کی ہے رؤیا رآها ملک عادل رفيع الهمة كامل الفهم والقياس ۔ جو دیکھی ایک بادشاہ عادل بلند ہمت اور پورے دانا نے۔