عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 238

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۳۴ دافع البلاء ☆ مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے۔ اے عزیزو! یہ بات غصہ کرنے کی نہیں۔ اگر اس احمد کے غلام کو جو سیح موعود کر کے بھیجا گیا ہے تم اس پہلے مسیح سے بزرگتر نہیں سمجھتے اور اسی کو شفیع اور منجی قرار دیتے ہو تو اب اپنے اس دعوئی کا ثبوت دو۔ اور جیسا کہ اس احمد کے غلام کی نسبت خدا نے فرمايا انه اوى القرية لو لا الاكرام لهلک المقام جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا نے اس شفیع کی عزت ظاہر کرنے کے لئے اس گاؤں قادیاں کو طاعون سے محفوظ رکھا جیسا کہ دیکھتے ہو کہ وہ پانچ چھ برس سے محفوظ چلی آتی ہے اور نیز فرمایا کہ اگر میں اس احمد کے غلام کی بزرگی اور عزت ظاہر نہ کرنا چاہتا تو آج قادیاں میں بھی تباہی ڈال دیتا۔ ایسا ہی آپ بھی اگر مسیح ابن مریم کو در حقیقت سچا شفیع اور منجی قرار دیتے ہیں تو قادیاں کے مقابل پر آپ بھی کسی اور شہر کا پنجاب کے شہروں میں سے نام لے دیں کہ فلاں شہر ہمارے خداوند مسیح کی برکت اور شفاعت سے طاعون سے پاک رہے گا اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھر آپ سوچ لیں کہ جس شخص کی اسی دنیا میں شفاعت ثابت نہیں وہ دوسرے جہان میں کیونکر شفاعت کرے گا۔ اور میاں شمس الدین صاحب یا د رکھیں کہ ان کا اشتہار محض بے سود ہے اور کوئی فائدہ اس پر مرتب نہیں ہوگا۔ اور علاج یہی ہے جو ہم نے لکھا ہے۔ وہ یاد کریں کہ پہلے اس سے انسانی گورنمنٹ میں وہ اور ان کی انجمن میرا مقابلہ کر کے ذلت اٹھا چکی ہے کہ انہوں نے مؤلف امهات المؤمنین کی نسبت گورنمنٹ سے سزا طلب کی اور میں نے اس سے منع کیا۔ آخر میری رائے ہی صحیح ہوئی۔ اسی طرح اب بھی جو کچھ انہوں نے آسمانی گورنمنٹ میں میموریل بھیجنا چاہا ہے وہ بھی محض بے سود اور لغو اور بے اثر ہے جیسا کہ پہلا میموریل تھا۔ سچا میموریل یہی ہے جو میں نے مرتب کیا ہے آخر آپ کو یہی ماننا پڑے گا۔ هر چه دانا کند کند ناداں لیک بعد از کمال رسوائی مثلاً نارووال یا بٹالہ کا نام لے دیں۔ منہ ۱۵