عصمتِ انبیاءؑ — Page 211
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۰۷ ایک غلطی کا ازالہ عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جرى الله في حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۵۰۴ پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۔ اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی ۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو صفحہ ۵۵۷ براہین میں درج ہے دنیا میں ایک نذیر آیا اس کی دوسری قراءت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم النبین ہیں پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اُس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں ﴿۲﴾ آ سکتا جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں اُن کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بے شک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ اور حدیث لا نَبِيَّ بَعْدِی اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہند و یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑ کی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی ۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے ا الاحزاب : ۴۱