اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 412
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۰۶ چیز کو اس کے وسیلہ کے ذریعہ سے ڈھونڈ وتب اسے پالوگے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدا نے ان لوگوں کو جو بدکاری اور گمراہی میں پڑ گئے اپنے کلام میں مردہ کے نام سے موسوم کیا ہے اور نیکوکاروں کو زندہ قرار دیا ہے۔ اس میں بھید یہ ہے کہ جو لوگ خدا سے غافل ہوئے ان کی زندگی کے اسباب جو کھانا پینا اور شہوتوں کی پیروی تھی منقطع ہو گئے اور روحانی غذا سے ان کو کچھ حصہ نہ تھا۔ پس وہ در حقیقت مر گئے اور وہ صرف عذاب اٹھانے کے لئے زندہ ہوں گے۔ اسی بھید کی طرف اللہ جل شانہ نے اشارہ فرمایا ہے جیسا کہ کہتا ہے۔ مَنْ يَّاتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى ! یعنی جو شخص مجرم بن کر خدا کے پاس آئے گا تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے وہ اس میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا مگر جو لوگ خدا کے محب ہیں وہ موت سے نہیں مرتے کیونکہ ان کا پانی اور ان کی روٹی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ پھر برزخ کے بعد وہ زمانہ ہے جس کا نام عالم بعث ہے۔ اس زمانہ میں ہر ایک روح نیک ہو یا بد، صالح ہو یا فاسق ایک کھلا کھلا جسم حاصل کرے ۶۴ گی۔ اور یہ دن خدا کی ان پوری تجلیات کے لئے مقرر کیا گیا ہے جس میں ہر ایک انسان اپنے رب کی ہستی سے پورے طور پر واقف ہو جائے گا اور ہر ایک شخص اپنی جزاء کے انتہائی نقطہ تک پہنچے گا۔ یہ تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ خدا سے یہ کیوں کر ہو سکے گا کیونکہ وہ ہر ایک قدرت کا مالک ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔ أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْتُهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَاهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمُ ۔ ا طه : ۷۵ یس : ۷۸ تا ۸۰