اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 383
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۷۷ اسلامی اصول کی فلاسفی نے صفات باری تعالیٰ میں اختیار کیا ہے چنانچہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ خدا سنتا، جانتا، بولتا ، کلام کرتا ہے اور پھر مخلوق کی مشابہت سے بچانے کے لئے یہ بھی فرماتا ہے۔ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ یعنی خدا کی ذات اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں ۔ اس کے لئے مخلوق سے مثالیں مت دو۔ سوخدا کی ذات کو تشبیہ اور تنزیہ کے بین بین رکھنا یہی وسط ہے۔ غرض اسلام کی تعلیم میانہ روی کی تعلیم ہے۔ سورہ فاتحہ بھی میانہ روی کی ہدایت فرماتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۔ مغضوب علیہم سے وہ لوگ مراد ہیں جو خدا تعالیٰ کے مقابل پر قوت غضبی کو استعمال کر کے قومی سبعیہ کی پیروی کرتے ہیں اور ضالین سے وہ مراد ہیں جو قوی بہیمیہ کی پیروی کرتے ہیں۔ اور میانہ طریق وہ ہے جس کو لفظ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے یاد فرمایا ہے۔ غرض اس مبارک امت کے لئے قرآن شریف میں وسط کی ہدایت ہے۔ توریت میں خدا تعالیٰ نے انتظامی امور پر زور دیا تھا اور انجیل میں عفو اور درگذر پر زور دیا تھا اور اس امت کو موقعہ شناسی اور وسط کی تعلیم ملی چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا یعنی ہم نے تم کو وسط پر عمل کرنے والے بنایا اور وسط کی تعلیم تمہیں دی۔ سو مبارک وہ جو وسط پر چلتے ہیں۔خیر الامور اوسطھا۔ روحانی حالتیں تیسرا حصہ یعنی یہ کہ روحانی حالتیں کیا ہیں؟ واضح رہے کہ ہم پہلے اس سے بیان (۴۶) کر چکے ہیں کہ بموجب ہدایت قرآن شریف کے روحانی حالتوں کا منبع اور سرچشمہ نفس مطمئنہ ہے جو انسان کو با اخلاق ہونے کے مرتبہ سے باخدا ہونے کے مرتبہ تک پہنچاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ اصل مسودہ میں خدا دیکھتا سنتا“ کے الفاظ مرقوم ہیں ۔ (ناشر) لا الشورى : ۱۲ النحل ۳۷۵ البقرة: ۱۴۴