اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 353
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۴۷ اسلامی اصول کی فلاسفی بھی ایسا کرو اور پھر فرمایا کہ جب تم یتیموں کو مال واپس کرنے لگو تو گواہوں کے رو بروان کو ان کا مال دو اور جو شخص فوت ہونے لگے اور بچے اس کے ضعیف اور صغير السن ہوں تو اس کو نہیں چاہیے کہ کوئی ایسی وصیت کرے کہ جس میں بچوں کی حق تلفی ہو۔ جو لوگ ایسے طور سے یتیم کا مال کھاتے ہیں جس سے یتیم پر ظلم ہو جائے وہ مال نہیں بلکہ آگ کھاتے ہیں اور آخر جلانے والی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ اب دیکھو خدا تعالیٰ نے دیانت اور امانت کے کس قدر پہلو بتلائے ۔ سو حقیقی دیانت اور امانت وہی ہے جو ان تمام پہلوؤں کے لحاظ سے ہو اور اگر پوری عقلمندی کو دخل دے کر امانتداری میں تمام پہلوؤں کا لحاظ نہ ہو تو ایسی دیانت اور امانت کئی طور سے چھپی ہوئی خیانتیں اپنے ہمراہ رکھے گی اور پھر دوسری جگہ فرمایا۔ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحَكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَانْتُمْ تَعْلَمُونَ لَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمْنَتِ إِلَى أَهْلِهَا " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَابِنِيْنَ - وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ، وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ ۔ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ، وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ) ☆ یعنی آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناجائز طور پر مت کھایا کرو اور نہ اپنے مال کو رشوت کے طور پر حکام تک پہنچایا کرو تا اس پر حکام کی اعانت سے دوسرے کے مالوں کو دبالو۔ امانتوں کو ان کے حق داروں کو واپس دے دیا کرو۔ خدا خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ جب تم ما پو تو پورا ما پو ۔ جب تم وزن کرو تو پوری اور بے خلل تر از و سے وزن کرو اور کسی طور سے لوگوں کو ان کے مال کا نقصان نہ پہنچاؤ اور فساد کی نیت سے زمین پر مت پھرا کر ویعنی اس نیت سے کہ چوری کریں یا ڈا کہ ماریں یا کسی کی جیب کتریں یا کسی اور ناجائز طریق سے بیگانہ مال پر قبضہ کریں اور پھر فرمایا کہ تم البقرة : ۱٨٩ ۲ النساء : ۵۹ البقرة : ٦١ ك النساء : ٣ الانفال: ۵۹ بنی اسرائیل : ۳۶ ه الاعراف: ۸۶ اصل مسودہ میں ” اس طرح پر “ کے الفاظ مرقوم ہیں۔ (ناشر) ۲۷