اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 349
روحانی خزائن جلد ۱۰ مل سکتا ہے؟ ۳۴۳ اسلامی اصول کی فلاسفی پاکدامن رہنے کے لئے پانچ علاج ان آیات میں خدا تعالیٰ نے خلق احصان یعنی عفت کے حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ انسان کو پاک دامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلا دیئے ہیں یعنی یہ کہ (۱) اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا (۲) کانوں کو نامحرموں کی آواز سننے سے بچانا۔ (۳) نامحرموں کے قصے نہ سننا (۴) اور ایسی تمام تقریبوں سے جن میں اس بد فعل کا اندیشہ ہوا اپنے تئیں بچانا (۵) اگر نکاح نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ۔ اس جگہ ہم بڑے دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ اعلی تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں صرف اسلام سے ہی خاص ہے اور اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ چونکہ انسان کی وہ طبعی حالت جو شہوات کا منبع ہے جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہو سکتا یہی ہے کہ اس کے جذبات شہوت محل اور موقع پا کر جوش مارنے سے رہ نہیں سکتے یا یوں کہو کہ سخت خطرہ میں پڑ جاتے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ ہم نامحرم عورتوں کو بلا تکلف دیکھ تو لیا کریں اور ان کی تمام زینتوں ﴿۲۴﴾ پر نظر ڈال لیں۔ اور ان کے تمام انداز ناچنا وغیرہ مشاہدہ کر لیں لیکن پاک نظر سے دیکھیں او اور نہ یہ تعلیم ہمیں دی ہے کہ ہم ان بیگا نہ جوان عورتوں کا گانا بجانا سن لیں اور ان کے حسن کے قصے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے سنیں بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ ہم نامحرم عورتوں کو اور ان کی زینت کی جگہ کو ہرگز نہ دیکھیں۔ نہ پاک نظر سے اور نہ نا پاک نظر سے ۔ اور ان کی خوش الحانی کی آوازیں اور ان کے حسن کے قصے نہ سنیں ۔ نہ پاک خیال سے اور نہ نا پاک خیال سے بلکہ ہمیں چاہیے کہ ان کے سننے اور دیکھنے سے نفرت رکھیں جیسا کہ مردار سے تا ٹھوکر نہ کھاویں کیونکہ ضرور ہے کہ بے قیدی کی نظروں سے کسی وقت ٹھوکریں پیش آئیں ۔ سو چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی ۔ اس میں کیا شک ہے کہ بے قیدی ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔ اگر ہم ایک