اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 317

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۱۵ اسلامی اصول کی فلاسفی اسلام مضمون عالیجناب حضرت میرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان جس کو مولانا مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے بمقام لاہور جلسہ اعظم مذاہب دھرم مہوتسو میں ۲۷ دسمبر ۱۸۹۶ء کو کھڑے ہو کر سنایا۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نحمده و نصلى على رسوله الكريم دعوئی اور دلیل الہامی کتاب سے ہونا ضروری ہے آج اس جلسہ مبارک میں جس کی غرض یہ ہے کہ ہر ایک صاحب جو بلائے گئے ہیں سوالات مشتہرہ کی پابندی سے اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان فرماویں۔ میں اسلام کی خوبیاں بیان کروں گا۔ اور اس سے پہلے کہ میں اپنے مطلب کو شروع کروں اس قدر ظاہر کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں نے اس بات کا التزام کیا ہے کہ جو کچھ بیان کروں خدائے تعالیٰ کے پاک کلام قرآن شریف سے بیان کروں کیونکہ میرے نزدیک یہ بہت ضروری ہے کہ ہر ایک شخص جو کسی کتاب کا پابند ہو اور اس کتاب کو ربانی کتاب سمجھتا ہو وہ ہر ایک بات میں اسی کتاب کے حوالہ سے جواب دے اور اپنی وکالت کے اختیارات کو ایسا وسیع نہ کرے کہ گویا وہ ایک نئی کتاب بنا رہا ہے۔ سو چونکہ آج ہمیں قرآن شریف کی خوبیوں کو ثابت کرنا ہے اور اس کے کمالات کو دکھلانا ہے اس لئے مناسب ہے کہ ہم کسی بات میں اس کے اپنے بیان سے باہر نہ جائیں اور اسی کے اشارہ یا تصریح کے موافق اور اسی کی آیات کے حوالہ سے ہر ایک مقصد کو تحریر کریں تا ناظرین کو موازنہ اور مقابلہ کرنے کے لئے آسانی ہو اور چونکہ ۳ ہر ایک صاحب جو پابند کتاب ہیں اپنی اپنی الہامی کتاب کے بیان کے پابندرہیں گے اور اسی کتاب کے اقوال پیش کریں گے اس لئے ہم نے اس جگہ احادیث کے بیان کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ تمام صحیح