اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 237
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۳۷ ست بچن پڑھی تو اس صورت میں ماننا پڑتا ہے کہ کسی طرح با وا صاحب کی نعش پر ان مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا ۱۱۳ تھا اور پھر ہندوؤں کے آنسو پوچھنے کیلئے اس قصہ کو پوشیدہ رکھا گیا اسی لئے باوا صاحب کا کر یا کرم ہونا ثابت نہیں مگر بالاتفاق جنازہ ثابت ہے اور باوا صاحب کی یہ پیشگوئی کہ میرا جنازہ پڑھا جائے گا اسی صورت میں کامل طور پر تکمیل پاتی ہے کہ جب کہ نعش کی حاضری میں جیسا کہ عام دستور ہے جنازہ پڑھا گیا ہولیکن یہ دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ با واصاحب کی نعش ہرگز جلائی نہیں گئی کیونکہ نعش کا جلانا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتا اگر نعش کو جلاتے تو باوا صاحب کے پھول بھی گنگا میں پہنچاتے کر یا کرم بھی کرتے مگر ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ پھر ایک تیسرا قرینہ یہ ہے کہ باوا صاحب جنم ساکھی کلاں یعنی انگر کی جنم ساکھی میں دفن کئے جانا پسند کرتے ہیں اس سے صاف طور پر نکلتا ہے کہ باوا صاحب نے پوشیدہ طور پر دفن کئے جانے کیلئے اپنے مرید مسلمانوں کو وصیت کی ہوگی کیونکہ انسان جس چیز کو پسند کرتا ہے اس کے حاصل کرنے کیلئے تدبیر بھی کرتا ہے اور ایسے موقعہ پر بجز وصیت کے اور کوئی تدبیر نہیں۔ پھر ہم اصل مطلب کی طرف عود کر کے لکھنا چاہتے ہیں کہ باوا صاحب کی وفات کے وقت جب بعض مسلمانوں نے باوا صاحب کے وارثوں کے پاس آ کر جھگڑا کیا کہ با وا صاحب مسلمان تھے اور ہم اسلام کے طور پر اُن کی گور منزل کریں گے تو جس قدر بزرگ با وا صاحب کے جانشینوں اور دوستوں اور اولاد میں سے وہاں بیٹھے تھے کوئی اُن کی بات پر ناراض نہ ہوا اور کسی نے اُٹھ کر یہ نہ کہا کہ اے نالائقو ! نادانو اور آنکھوں کے اندھو اور بے ادبو!!! یہ تم کیسے بکواس کرنے لگے کیا با وا صاحب مسلمان تھے تا ان کی نعش ہم تمہارے سپرد کر دیں اور تم اُس پر جا اور تم اُس پر جنازہ پڑھو اور دفن کرو ۔ اے اح ہ پڑھو اور دفن کر ۔ اے احمقو !!! کیا تمہیں معلوم نہیں وہ تو اسلام کے سخت دشمن تھے اور تمہارے نبی کو جس کی شرع کی رو سے تم جنازہ ☆ نوٹ جنم ساکھی کلاں صفحہ ۲۰۲۶ میں باوا صاحب کا یہ شعر قبر کے بارے میں ہے داغ پوتر دھرتری جو دھرتی ہوئے سمائے تا کے ٹکٹ نہ آؤئی دوزخ سندی بھائے یعنی جو لوگ داغ سے پاک ہو کر قبر میں داخل ہوئے دوزخ کی بھاپ اُن کے نزدیک بالکل نہیں آئے گی ۔ منہ