اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 232

روحانی خزائن جلد ۔ ۱۰ ۲۳۲ ست بچن ۱۰۸ یعنی مقدر ہے اور ایسا ہی اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تشاء کے یعنی خدا جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ پھر با وا صاحب ایک شعر میں فرماتے ہیں آپے نیڑے دور آپے ہی آپے منجھ میان آپے دیکھے سُنے آپے ہی قدرت کرے جہان یعنی وہ آپ ہی نزدیک ہے اور آپ ہی دور ہے اور آپ ہی درمیان ہے اور آپ ہی دیکھتا سُنتا اور آپ ہی قدرت سے جہان بنایا۔ اب ناظرین دیکھیں اور سوچیں کہ اس اعتقاد کو وید کے اعتقاد سے کچھ بھی نسبت نہیں وید کا یہ اعتقاد ہر گز نہیں کہ تمام جہان کو خدا نے قدرت سے پیدا کیا ی تعلیم اس کتاب کی ہے جس میں یہ لکھا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " یعنی سب تعریفیں اللہ کی ذات کو ہیں جس نے تمام عالم پیدا کئے اور اُسی نے فرما یا هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ هُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهُ وَفِي الْأَرْضِ إِلَهُ ، وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ ۔ یعنی وہ پہلے بھی ہے اور پیچھے بھی اور ظاہر بھی ہے اور چھپا ہوا بھی۔ وہ آسمان میں ہے یعنی دور ہے اور زمین میں ہے یعنی نزدیک ہے اور جب میرے پرستار تجھ سے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں یعنی دوستوں کیلئے نزدیک اور دشمنوں کے لئے دور اور جانوں کہ خدا انسان اور اُس کے دل کے درمیان آجاتا ہے یعنی جیسا کہ دور اور نزدیک ہونا اُس کی صفت ہے ایسا ہی درمیان آ جانا بھی اُس کی صفت ہے پھر باوانا تک صاحب گرنتھ صاحب میں ایک شہد میں فرماتے ہیں توں مار چوالیس بخش ملا جیوں بھاویں تیوں نام کیا یعنی تو مار کر زندہ کرنے والا ہے اور گناہ بخش کر پھر اپنی طرف ملانے والا جس طرح تیری مرضی ہو اسی طرح تو اپنی پرستش کراتا ہے۔ اب ہر یک شخص سوچ لے کہ یہ عقیدہ اسلام کا ہے یا آریوں کا آریہ صاحبان بھی اگر چاہیں تو گواہی دے سکتے ہیں کہ وید کی رو سے جی اُٹھنا ثابت نہیں اور نیز ال عمران : ۲۷ ۲ الفاتحة : ٢ الحديد : ۴ الزخرف : ۸۵ ۵ البقرة : ۱۸۷ ۶ الانفال: ۲۵