اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 186
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۸۶ ست بچن ۲۲ چلہ میں بیٹھے رہے اور اُن کا ورد خدا تعالیٰ کے ناموں میں سے ھو کے نام سے ھو کے نام کا ورد تھا کیونکہ شاہ شمس تبریز کا بھی یہی ورد تھا اور اکثر وہ یہ مصرع پڑھا کرتے تھے۔ بجز یاهو و يا من هو دگر چیزی نمیدانم بحسیں شاہ صاحب کا یہ بھی بیان ہے کہ باوا صاحب کا باپ مسمی بھائی کالو اور اُن کا دادا مسمی بھائی سو بھا بھی حضرت شاہ شمس تبریز صاحب کے سلسلہ کے مرید تھے اسی لئے باوا نانک صاحب بھی اسی سلسلہ میں مرید ہوئے ۔ یہ تو سجادہ نشین صاحب کا بیان ہے جو ملتان کے رئیس بھی ہیں مگر اس کے مطابق ہی سید حامد شاہ صاحب گرویزی رئیس ملتان اور خلیفہ عبدالرحیم صاحب جو خاص مجاور روضہ موصوفہ کے ہیں گواہی دیتے ہیں اُن کا بیان ہے کہ یہ ایک مشہور واقعہ متواتر روایتوں سے چلا آتا ہے اور عام اور خاص اور ہندو اور مسلمان اس پر متفق ہیں کہ روضہ موصوفہ کے ساتھ باوانا تک صاحب نے ایک خلوت خانہ بنا کر چالیس روز تک اُس میں چلہ کیا تھا اور جو دیوار پر یا اللہ کا لفظ لکھا ہوا اب تک موجود ہے اور ساتھ اس کے ایک پنجہ ہاتھ کی شکل پر بنایا ہوا ہے یہ دونوں یادگار بھی باوانا تک صاحب کے ہی ہاتھ کی ہیں لہذا ہندو لوگ باوا صاحب کی تحریر اور نشان کی بہت تعظیم کرتے ہیں۔ یہ واقعات ہیں جو موقعہ کی تحقیقات سے معلوم ہوئے اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ باوانا تک صاحب کے اس جگہ چلہ بیٹھنے اور یا اللہ کا لفظ لکھنے اور اس جگہ پنجہ کی شکل بنانے میں ہندو اور مسلمان دونوں قوموں کو اتفاق ہے۔ نوٹ ۔ ڈاکٹر ٹرمپ کا یہ قول کہ یہ بات قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی کہ نانک مکہ میں بھی گیا ہو سراسر قلت تدبر اور کم سوچنے کی وجہ سے ہے جس حالت میں ڈاکٹر صاحب خود گرنتھ کے ترجمہ میں باوانا تک صاحب کا یہ قول لکھ چکے ہیں کہ اُن کا یہ عقیدہ تھا کہ بجز شفاعت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص نجات نہیں پائے گا تو ایسے صدق اور اعتقاد کے آدمی پر یہ بدظنی کرنا کہ اُن کا مکہ میں جانا ایک موضوع قصہ معلوم ہوتا ہے۔ صحیح نہیں ہے ہاں وہ نا معقول زوائد جو ساتھ لگائے گئے ہیں وہ بیشک سراسر افترا ہے اور حج کے لئے مکہ میں باوا صاحب کا جانا چشتی خاندان کے صوفیہ میں سینہ بسینہ روایت چلی آتی ہے چنانچہ ابھی اوپر بیان ہو چکا ہے بلکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ باوا صاحب دو برس برابر مکہ معظمہ میں رہے اور مکہ معظمہ کی طرف اُنہوں نے دو سفر کئے اور دوحج کئے پس ثابت شدہ باتیں کیونکر چھپ سکتی ہیں ۔م ۔ غ ۔ا۔