اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 181

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۸۱ ست بچن لقب دیا اور ایسا ہونا ممکن نہ تھا جب تک باوانا تک صاحب اُن ملکوں میں اپ ن ملکوں میں اپنا اسلام ظاہر نہ کرتے ۵۷ اب حاصل کلام یہ ہے کہ یہ چولہ جو کا بل مل کی اولاد کے ہاتھ میں ہے باوانا تک صاحب کی طرز زندگی اور ان کی ملت و مشرب کا پتہ لگانے کے لئے ایسا عمدہ ثبوت ہے کہ اُس سے بہتر ملنا مشکل ہے میں نے اس ثبوت میں بہت غور کی اور بہت دنوں تک اس کو سوچتا رہا آخر مجھے معلوم ہوا کہ با واصاحب کے اندرونی حالات کے دریافت کرنے کے لئے یہ وہ اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے جس پر سکھ صاحبوں کو فخر کرنا چاہئے بلا شبہ انہیں لازم ہے کہ اگر باوانا تک صاحب سے انہیں سچی محبت ہے تو اس بزرگ چولہ کو تحقیر کی نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ اُس کو سرمایہ افتخار سمجھیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ گرنتھ ایک زمانہ دراز یعنی دوسو برس کے بعد جمع کیا گیا ہے اور گرنتھ دانوں کو اس بات کا اقرار ہے کہ اس میں بہت سے اشعار باوا صاحب کی طرف منسوب کر دیئے گئے حالانکہ وہ اشعار در اصل ان کی طرف سے نہیں ہیں اس صورت میں گرنتھ موجودہ باوا صاحب کی قطعی اور یقینی سوانح پیش کرنے کے وقت حجت قاطعہ کے طور پر پیش نہیں ہو سکتا ہاں یہ شرف اور منزلت چولہ صاحب کو حاصل ہے کہ جو نہ دو سو برس بعد بلکہ نانک صاحب کے ہاتھ سے ہی اُن کے جانشینوں کو ملا اور تاریخی تواتر سے اب تک نہایت عزت کے ساتھ محفوظ رہا۔ ۲۰۰ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض سکھ صاحبان میری اس تحریر سے ناخوش ہیں بلکہ سخت ناراض ہیں کہ کیوں باوا نا تک صاحب کو مسلمان قرار دیا گیا ہے لیکن مجھے نہایت شبہ ہے کہ وہ اس بات کو سمجھے بھی ہوں کہ میں نے رکن دلائل سے باوا صاحب کو مسلمان یقین کیا ہے اُنہیں معلوم ہو کہ میں نے باوا صاحب کو مسلمان نہیں ٹھہرایا بلکہ انہیں کے پاک افعال اور اقوال ہر یک منصف کو اس رائے کے ظاہر کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں جو میں نے ظاہر کی یوں تو سکھ صاحبوں سے ہند و صاحب تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور اُن کے پنڈت بھی اس قدر ہیں کہ شاید سکھ صاحبوں کی کل مردم شماری بھی اس قدر نہ ہو مگر میں نے کسی کی نسبت یہ رائے ظاہر نہیں کی کہ فلاں پنڈت در پردہ مسلمان تھا کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ در حقیقت وہ دشمن دین ہیں اور وہ راست بازی جس کو ہم اسلام سے تعبیر کرتے ہیں اُس کا ہزارم حصہ بھی ا