اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 179
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۷۹ ست بچن جھوٹ لکھ دینا ایک ایسی جرات ہے جس پر لاکھوں انسان کا اتفاق کر لینا خلاف قیاس ہے ماسوا ج اس کے بابا نانک صاحب کا حج کے لئے جانا صرف سکھوں کی کتابوں سے ہی نہیں سمجھا جاتا بلکہ چشتی خاندان کے بہت سے ثقہ لوگ ابتک سینہ بہ سینہ یہ روایت کرتے آئے ہیں کہ بابا نانک صاحب ضرور حج کے لئے مکہ میں گئے تھے پس اتنا بڑا واقعہ جو سکھوں اور مسلمانوں میں متفق علیہ ہے کیونکر یک لخت جھوٹ ہو سکتا ہے ہاں جوز واید ملائے گئے ہیں جو نہ صرف اسلامی روایتوں کے مخالف بلکہ عقل اور قیاس اور تاریخ کے بھی مخالف ہیں وہ بے شک افترا اور جھوٹ ہے بہتر ہو کہ اب بھی سکھ صاحبان جنم ساکھیوں میں سے ان بے جا زوائد کو نکال دیں کیونکہ یہ نامعقول اور پر تعصب قصے واقعات صحیحہ کو ایک کلنک کی طرح لگے ہوئے ہیں اور اب وہ زمانہ نہیں کہ کوئی زیرک ان کو قبول کرے اگر ایسے قصے ہندوؤں کے تیرتھوں اور مقامات متبرکہ اور درباروں کی نسبت کوئی مسلمان پیش کرتا تو کیا بجز دل دُکھانے کے اُس کا کوئی اور نتیجہ بھی ہوتا جبکہ معقول باتیں بھی عدالتوں میں بجر تسلی بخش ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں ہوتیں تو ایسی بیہودہ اور نامعقول باتیں جو تاریخی ثبوتوں کے بھی مخالف ہیں کیونکر اور کس طرح قبول ہو سکتی ہیں۔ پھر اسی بھائی گورداس کی واران میں ہے کہ بابا نانک جب بغداد میں گیا تو شہر میں جا کر باہر اپنا ڈیرہ لگایا اور دوسرا شخص بابا کے ساتھ بھائی مردانہ تھا۔ جاکر بانگ دی اور نماز کو ادا کیا دیکھو واراں گورداس صفحه ۱۳ مطبوعہ مطبع مصطفائی لاہور سم ۱۹۴۷ پھر اس میں اور جنم ساکھی بھائی منی سنگھ میں لکھا ہے کہ بغداد میں بابا صاحب کی ملاقات پیر دستگیر محی الدین یعنی سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور بہت گفتگو ہوئی دیکھو جنم ساکھی بھائی منی سنگھ صفحہ ۴۲۶ مطبوعہ مطبع مصطفائی سم۱۹۴۷ ۔ اب ناظرین خود سوچ لیں کہ بابا نانک صاحب تو سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے فوت ہونے سے چار سو برس بعد ہوئے ہیں پھر کیسے سید موصوف سے بابا صاحب کی ملاقات ہوگئی۔ یہ کس قدر بیہودہ جھوٹ ہے غرض ان تمام افتراؤں کو الگ کر کے اصل بات یہی ثابت ہوتی ہے کہ بابا صاحب ضرور مکہ میں حج کے لئے گئے تھے اور پھر سید عبدالقادر جیلانی کے روضہ کی زیارت کے لئے بغداد میں بھی گئے اور جو اُس پر زوائد ملائے گئے ان کے بے اصل اور دروغ ہونے پر