اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 170
۵۰ روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۷۰ مگر جس کے دل میں محبت نہیں اُسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں اٹھو جلد تر لاؤ فوٹو گراف ذرہ کھینچو تصویر چولے کی صاف فنا سب کا انجام ہے جز خدا کہ دنیا کو ہرگز نہیں ہے بقا سولو عکس جلدی کہ اب ہے ہر اس مگر اُس کی تصویر رہ جائے پاس یہ چولا کہ قدرت کی تحریر ہے یہی رہنما اور یہی پیر ہے یہ انگر نے خود لکھد یا صاف صاف کہ ہے وہ کلام خدا بے گزاف یہ نور خدا ہے خدا سے ملا وہ لکھا ہے خود پاک کرتار نے اُس حی و قیوم و غفار نے خدا نے جو لکھا وہ کب ہو خطا وہی ہے خدا کا کلام صفا یہی راہ ہے جس کو بھولے ہو تم اٹھو یارو اب مت کرو راہ گم ارے جلد آنکھوں سے اپنے لگا ارے لوگو تم کو نہیں کچھ خبر جو کہتا ہوں میں اُس پہ رکھنا نظر زمانہ تعصب سے رکھتا ہے رنگ کریں حق کی تکذیب سب بید رنگ وہی دیں کے راہوں کی سنتا ہے بات کہ ہو متقی مرد اور نیک ذات مگر دوسرے سارے ہیں پر عناد پیارا ہے اُن کو غرور اور فساد بناتے ہیں باتیں سراسر دروغ نہیں بات میں اُن کی کچھ بھی فروغ بھلا بعد چولے کے اے پر غرور وہ کیا کسر باقی ہے جس سے تو دور تو ڈرتا ہے لوگوں سے اے بے ہنر خدا سے تجھے کیوں نہیں ہے خطر یہ تحریر چولہ کی ہے اک زباں سنو وہ زباں سے کرے کیا بیاں که دین خدا دین اسلام ہے جو ہو منکر اُس کا بد انجام ہے محمد وہ نبیوں کا سردار ہے کہ جس کا عدد مثل مردار ہے تجھے چولے سے کچھ تو آوے حیا ذرہ دیکھ ظالم کہ کرتا ہے کیا ست بچن