اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 153

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۵۳ ست بچن اور ان کو چولا دکھلایا گیا اور اُنہوں نے کلمہ طیبہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ چولہ پر لکھا ہوا ۳۳ دیکھا اور ایسا ہی کئی اور آیات دیکھیں اور واپس آ کر تمام حال ہمیں سنایا لیکن ہم نے اُن کے بیان پر بھی اکتفا نہ کیا اور سوچا کہ باوا نانک کی اسلام کے لئے یہ ایک عظیم الشان گواہی ہے اور ممکن ہے کہ دوسروں کی روایتوں پر تحقیق پسند لوگوں کو اعتماد نہ ہو اور یا آئندہ آنے والی نسلیں اُس سے تسلی نہ پکڑ سکیں اس لئے یہ قرین مصلحت معلوم ہوا کہ آپ جانا چاہئے تا صرف شنید پر حصر نہ رہے اور اپنی ذاتی رویت ہو جائے چنانچہ ہم بعد استخارہ مسنونہ تیس ستمبر ۱۸۹۵ء کو پیر کے دن ڈیرہ نانک کی طرف روانہ ہوئے اور قریباً دس بجے پہنچ کر گیارہ بجے چولا صاحب کے دیکھنے کے لئے گئے اور ایک جماعت مخلص دوستوں کی میرے ساتھ تھی جو چولا صاحب کے دیکھنے میں میرے شریک تھی اور وہ یہ ہیں۔ (۱) اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی (۲) اخویم مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی (۳) اخویم مولوی محمد احسن صاحب امروہی (۴) اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی (۵) اخویم منشی غلام قادر صاحب فصیح سیالکوٹی (۶) اخویم میرزا ایوب بیگ صاحب کلانوری (۷) اخویم شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم (۸) اخویم میر ناصر نواب صاحب دہلوی (۹) سید محمد اسماعیل دہلوی (۱۰) شیخ حامد علی تھہ غلام نبی چنانچہ ایک مخلص کی نہایت درجہ کی کوشش اور سعی سے ہم کو دیکھنے کا وہ موقعہ ملا کہ اُس جگہ کے لوگوں کا بیان ہے کہ جہاں تک یاد ہے ایسا موقع کسی کو بھی نہیں ملا یعنی یہ کہ چولا صاحب کی تمام تحریرات پر ہمیں اطلاع ہو گئی اور ہمارے لئے وہ بہت ہی اچھی طرح کھولا گیا۔ اس پر تین سو کے قریب یا کچھ زیادہ رومال لپیٹے ہوئے تھے اور بعض اُن میں سے بہت نفیس اور قیمتی تھے۔ نوٹ ۔ وہ میرے دوست جو مجھ سے پہلے میرے ایما سے ڈیرہ ناٹک میں گئے اور چولا صاحب کو دیکھ کر آئے اُن کے نام یہ ہیں۔ (1) مرزا یعقوب بیگ صاحب کلانوری (۲) منشی تاج دین صاحب اکونٹنٹ دفتر ریلوے لاہور ۔ (۳) خواجہ کمال الدین صاحب بی اے لاہور (۴) میاں عبد الرحمن صاحب لاہوری ۔ اور مرزا یعقوب بیگ نے چولہ دکھانے والوں کو ایک روپیہ بھی دیا تھا۔ منہ