اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 121
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۱ ست بچن کے بھی پڑھ جاتے ہیں پرلے درجہ کے متکبر اور ریا کار اور خود بین اور نفسانی اغراض سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور نیز باعث گم گشتہ طریق اور غبی ہونے کے نادان بھی پرلے سرے کے اس لئے اُس نے باوا صاحب کے حالات کو اپنے نفس کے حالات پر قیاس کر کے بکواس کرنا شروع کر دیا اور اپنے خبث مادہ کی وجہ سے سخت کلامی اور بد زبانی اور ٹھٹھے اور ہنسی کی طرف مائل ہو گیا اس لئے ہر یک محقق جو باوا صاحب سے محبت رکھتا ہے نہ صرف اپنی طرف سے بلکہ اسی نادان پنڈت کے اشتعال دہی کی وجہ سے یہ حق رکھتا ہے کہ سچے واقعات کے اظہار سے اُس کی پردہ دری بھی کرے۔ اور صاحبو ہم اس بات کے کہنے سے ہرگز رک نہیں سکتے کہ جو حقیقی معرفت کا حصہ باوا صاحب کو ملا تھا اُس سے یہ خشک دماغ پنڈت بکلی بے نصیب اور بے بہرہ تھا۔ ہر ایک کو یہ مان لینا ضروری ہے کہ باوا صاحب کو اس لطیف عقل میں سے عنایت از لی نے حصہ دے دیا تھا جس کے ذریعہ سے انسان روحانی عالم کی باریک راہوں کو دیکھ لیتا اور اُس حق ذات کی محبت میں ترقی کرتا اور اپنے تئیں پیچ اور ناچیز سمجھتا ہے مگر کیا اس عقل سے اس پنڈت کو بھی کچھ حصہ ملا تھا ہر گز نہیں اس کی کتابوں کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہایت ہی موٹی سمجھ کا آدمی اور با ایں ہمہ اول درجہ کا متکبر بھی تھا با وانا نک کی طرف جو تعلیمیں منسوب کی جاتی ہیں اُن میں سے ٹھیک ٹھیک ان کی تعلیم وہی ہے جو تو حید اور ترک دنیا پر مشتمل ہے اور جو مشر کا نہ خیالات یا کہانیاں اور خلاف حق باتیں ہیں وہ اُن کی طرف ہرگز منسوب نہیں ہو سکتیں۔ ہم کو اقرار کرنا چاہئے کہ باوا صاحب نے اُس سچی روشنی پھیلانے میں جس کے لئے ہم خدمت میں لگے ہوئے ہیں وہ مدد کی ہے کہ اگر ہم اُس کا شکر نہ کریں تو بلا شبہ ناسپاس ٹھہریں گے۔ یہ بات ہمیں تخمیناً تیس برس کے عرصہ سے معلوم ہے کہ باوا صاحب الہی دین کے ایک پوشیدہ خادم تھے اور اُن کے دل میں ایک سچا نور تھا جس کو اُنہوں نے نا اہلوں سے چھپا رکھا تھا اُن کے دل میں ان باتوں کا ایک گہرا یقین ہو گیا تھا کہ دنیا میں ایک اسلام ہی مذہب ہے جس میں خدائے واحد لاشریک