اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 541
آپ مجدد وقت اور مصلح کے منتظر تھے ۱۱ آپ کے بے نظیر اخلاص ووفا کا تذ<mark>کر</mark>ہ ۱۰ کسی اتفاق سے میری کتابیں ان تک پہنچیں وہ پاک باطن اور اہل علم و اہل فراست خداترس بزرگ تھے اس لئے میرے دلائل کا ان پر اثرہوا اور انہوں نے مجھے مان لیا ۹ امیر کابل سے حج کی اجازت لی۔امیر نے نہ صرف اجازت دی بلکہ امداد کے طورپر کچھ روپیہ بھی دیا چنانچہ وہ قادیان پہنچے ۱۰ جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو میں نے انکو اپنی پیروی میں فناشد پایااور محبت سے بھراپایا ۱۰ ان کے منہ سے بہت سے کلمات معرفت اوردانائی کے سنے ۱۱ سفر جہلم میں آپ ؑ شریک ہوئے اور کئی نشانات مشاہدہ کیے ۴۵ وفات مسیح کے دلائل اور مسیح موعود کے اس امت سے پیدا ہونے کے بارہ ان کے استدلال زیادہ تر قرآن شریف سے تھے اور انکا دل حق الیقین سے پُر تھا ۳۹ آپ کے بارہ میں حضور ؑ کا کشف اور الہام کہ کابل سے کاٹاگیا اور سیدھاہماری طرف آیا ۵۷ براہین احمدیہ میں آپ کی شہادت کی نسبت پیشگوئی ۶۹ آپ کی شہادت کے بارے حضور کو وحی ہوئی: قتل خیبۃ وزید ھیبۃ ۷۵ح آپ کے بارہ حضرت مسیح موعود کا کشف ۷۵ حضرت مسیح موعود ؑ کا آپ کو تصور <mark>کر</mark>کے اپنی بیماری کیلئے دعا <mark>کر</mark>نا اور معجزانہ شفا پاجانا ۷۵ آپ کی شہادت کے واقعہ کا بیان ۴۹ قادیان سے واپس جا<mark>کر</mark> بریگیڈیر محمد حسین کوتوال کو خط لکھا کہ امیر کابل سے کابل آنے کی اجازت حاصل <mark>کر</mark>لے ۴۹ امیرکابل نے آپ کے خوست پہنچنے سے پہلے ہی والی خوست کو آپ کی گرفتاری کا حکم دیا چنانچہ ایسا ہی ہوا ۵۱ آپ کی استقامت اور استقلال ۵۱ آپ کا کہنا کہ کابل کی سرزمین اپنی اصلاح کیلئے میرے خون کی محتاج ہے ۵۳ آپ کا کہنا کہ میں بعد قتل چھ روز تک پھر زندہ ہوجاؤں گا یہ قول وحی کی بنا پر ہوگا ۵۷ شہادت سے پہلے مولویوں کے ساتھ آپ کا مناظرہ و مباحثہ ۵۴ شہادت سے پہلے آپ کا کابل کے علماء کے ساتھ امیر کے حکم سے مباحثہ ہوا ۱۲۶ جب آپ کو سنگسار <mark>کر</mark>نے کی دھمکی دی گئی تو آپ نے آل عمران کی آیت ۹پڑھی اور جب سنگسار کیاجانے لگا تو آپ نے سورۃ یوسف کی آیت ۱۰۲ پڑھی ۱۲۷ سچ کے بیان <mark>کر</mark>نے میں کسی کی پرواہ نہیں <mark>کر</mark>تے تھے ۵۳ مباحثہ کے بعد آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا آپ نے وفات مسیح کابھی اقرار کیا ۵۴ امیر کابل نے مباحثہ کے کاغذات دیکھے بغیر صرف فتویٰ پر ہی حکم جاری <mark>کر</mark>دیا اور شہید <mark>کر</mark>وادیا ۵۵ امیر کابل کی طرف سے آپ کو بار بار توبہ <mark>کر</mark>نے کا کہا جانا اور آپ کا انکار <mark>کر</mark>نا ۵۶،۵۸ امیر کے حکم پر آپ کے ناک میں چھید <mark>کر</mark>کے اس میں رسی ڈالی گئی اورمقتل کی طرف لے جایا گیا ۵۸ مقتل میں کمرتک زمین میں گاڑ دیئے گئے اس وقت بھی امیر کابل نے کہا مسیح موعود کا انکار <mark>کر</mark>ولیکن آپ نے انکارنہ کیا ۵۹ امیر کابل نے قاضی کو حکم دیا کہ پہلاپتھر تم چلاؤ پھر امیر نے چلایا اور پھر ہزاروں پتھر اس شہید پر پڑنے لگے ۵۹ ۱۴جولائی ۱۹۰۳ء کو آپ کی شہادت ہوئی ۵۹ شہادت سے پہلے آپ کے الہامات ۱۲۷ آپ کی شہادت کی رات آسمان سرخ ہوگیا اگلے دن کابل میں ہیضہ پھوٹ پڑا جس میں نصراللہ خان کی بیوی اور بچہ بھی ہلاک ہوا ۱۲۷ شہادت کے دنوں میں سخت ہیضہ کابل میں پھوٹ پڑا ۷۴ آپ کی لاش چالیس دن پتھروں میں رہی چند دوستوں نے جنازہ پڑھ <mark>کر</mark> قبرستان میں دفن کیا۔انکے جسم سے کستوری کی خوشبو آتی تھی ۱۲۶