اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 461
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۵۹ قادیان کے آریہ اور ہم گو ہیں بہت درندے انساں کے پوستیں میں پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑیا یہی ہے ☆ کس دیں پہ ناز اُن کو جو ویڈ کے ہیں حامی مذہب جو پھل سے خالی وہ کھوکھلا یہی ہے اے آریو یہ کیا ہے کیوں دل بگڑ گیا ہے ان شوخیوں کو چھوڑو راہِ حیا یہی ہے مجھ کو ہو کیوں ستاتے سو افترا بناتے بہتر تھا باز آتے دور از بلا یہی ہے جس کی دعا ما اسے سے آخر آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر ماتم پڑا تھا گھر گھر و پنڈت لیکھرام پڑا تھا گھر گھر وہ میرزا یہی ہے اچھا نہیں ستانا پاکوں کا دل دُکھانا گستاخ ہوتے جانا اس کی جزا یہی ہے اس دیں کی شان و شوکت یا رب مجھے دکھادے سب جھوٹے دیں مٹادے میری دعا یہی ہے کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے تمام شد یاد رہے کہ وید پر ہمارا کوئی حملہ نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کی تفسیر میں کیا کیا تصرف کئے گئے آریہ ورت کے صد ہاند ہب اپنے عقائد کا ویدوں پر ہی انحصار رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور با ہم اُن کا سخت اختلاف ہے۔ پس ہم اس جگہ وید سے مراد صرف آریہ سماج والوں کی شائع کردہ تعلیمیں اور اصول لیتے ہیں۔ منہ نوٹ :۔ ایڈیشن اول میں یہ حاشیہ تو موجود ہے لیکن اس شعر کی نشان دہی نہیں کی گئی جس پر یہ حاشیہ ہے۔ ہم نے مضمون کو دیکھ کر یہ نشان لگایا ہے۔ (ناشر)