اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 458
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۵۶ قادیان کے آریہ اور ہم کیوں ہو گئے ہیں اس کے دشمن یہ سارے گمرہ وہ رہنما ہے راز چون و چرا یہی ہے دیں غار میں چھپا ہے اک شور کفر کا ہے اب تم دُعائیں کر لو غار حرا یہی ہے وہ صلعم پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اُس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے ۵۸ سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیرالوریٰ یہی ہے پہلوں سے خوب تر ہے خوبی میں اک قمر ہے اُس پر ہر اک نظر ہے بدرالدجی یہی ہے قربان پہلے تو رہ میں ہارے پار اس نے ہیں اُتارے میں جاؤں اس کے وارے بس ناخدا یہی ہے پردے جو تھے ہٹائے اندر کی رہ دکھائے دل یار سے ملائے وہ آشنا یہی ہے وہ یار لامکانی وہ دلبر نہانی دیکھا ہے ہم نے اُس سے بس رہنما یہی ہے وہ آج شاہ دیں ہے وہ تاج مرسلیں ہے وہ طیب و امیں ہے اُس کی ثنا یہی ہے حق سے جو حکم آئے اُس نے وہ کر دکھائے جو راز تھے بتائے نعم العطا یہی ہے آنکھ اُس کی دور میں ہے دل یار سے قریں ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے عین الضیا یہی ہے جو راز دیں تھے بھارے اُس نے بتائے سارے دولت کا دینے والا فرماں روا یہی ہے اُس نور پر فدا ہوں اُس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے وه دلبر یگانہ علموں کا ہے خزانہ باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے سب ہم نے اُس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے ہم تھے دلوں کے اندھے سو سو دلوں پر پھندے پھر کھولے جس نے بندے وہ مجتبی یہی ہے ہے قفل جندے سے مراد اس جگہ مقفل ہے۔ چونکہ اس جگہ کوئی شاعری دکھلا نا منظور نہیں اور