اِعجاز المسیح — Page 645
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۴۱ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے حد سے باہر ہوں بپایہ ثبوت پہنچایا گیا ہے اور پھر با ایں ہمہ اس عقیدہ کی اصل غرض جس کے لئے یہ عقیدہ تراشا گیا تھا بالکل مفقود ہے۔ دنیا میں نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے بڑے بڑے دو گناہ ہیں ایک شراب نوشی اور ایک بدکاری ۔ اب کہو کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ان دو گناہوں میں یورپ کے اکثر مردوں اور عورتوں نے پورا حصہ لیا ہے بلکہ میں اس بات میں مبالغہ نہیں دیکھتا کہ شراب نوشی میں ایشیا کے تمام ملکوں کی نسبت یورپ بڑھا ہوا ہے اور یورپ کے اکثر شہروں میں شراب فروشی کی اس قدر دوکانیں ملیں گی کہ ہمارے قصبوں کی ہر قسم کی دوکانیں ملا کر بھی ان سے کمتر ہوں گی اور تجربہ شہادت دے رہا ہے کہ تمام گناہوں کی جڑھ شراب ہے کیونکہ وہ چند منٹ میں ہی بدمست بنا کر خون کرنے تک دلیر کر دیتی ہے اور دوسری قسم کا فسق و فجور اس کے ضروری لوازم ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں اور اس پر زور دیتا ہوں کہ شراب اور تقویٰ ہرگز جمع نہیں ہو سکتے ۔ اور جو شخص اس کے بد نتیجوں سے آگاہ نہیں وہ عقلمند ہی نہیں اور اس میں ایک اور بڑی مصیبت ہے کہ اس کی عادت کو ترک کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔ اب اگر یہ سوال پیش ہے کہ اگر خون مسیح گناہوں سے پاک نہیں کر سکتا جیسا کہ وہ واقعی طور پر پاک نہیں کر سکا تو پھر گنا ہوں سے پاک ہونے کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں کیونکہ گندی زندگی در حقیقت مرنے سے بدتر ہے ۔ تو میں اس سوال کے جواب میں نہ صرف پر زور دعوئی سے بلکہ اپنے ذاتی تجربہ سے اور اپنی حقیقت اس آزمائشوں سے دیتا ہوں کہ در حقیقت گناہوں سے پاک ہونے کیلئے اس وقت سے جو انسان پیدا ہوا آج تک جو آخری ۲۴ دن ہیں صرف ایک ہی ذریعہ گناہ اور نافرمانی سے بچنے کا ثابت ہوا ہے اور وہ یہ کہ انسان یقینی دلائل اور چمکتے ہوئے نشانوں کے ذریعہ سے اس معرفت تک پہنچ جائے کہ جو در حقیقت خدا کو دکھا دیتی ہے اور کھل جاتا ہے کہ خدا کا غضب ایک کھا جانے والی آگ ہے اور پھر تجلی حسن الہی ہو کر ثابت ہو جاتا ہے کہ ہر یک کامل لذت خدا میں ہے یعنی جلالی اور جمالی طور پر