اِعجاز المسیح — Page 430
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۲۶ نزول المسيح کے راستباز بندوں میں سے تھے لیکن ایسے بندے تو کروڑ ہا دنیا میں گذر چکے ہیں اور خدا جانے آگے کس قدر ہوں گے۔ پس بلا وجہ ان کو تمام انبیاء کا سردار بنا دینا خدا کے پاک رسولوں کی سخت ہتک کرنا ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اور اُس کے پاک رسول نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام خدا تعالیٰ کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اس کو تمام انبیاء کے صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ کی طرف رجوع کیا ہوتا کہ وہ کیا کہتے ہیں جہاں تک میں اپنی تفسیروں کو دیکھتا ہوں ان میں بھی اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں ایک شخص بہتی اور حام اور ابونعیم کا حوالہ دیتا ہے اور ایک روایت یا واقعہ بیان کرتا ہے۔ دوسرا اس کے بالمقابل قرآن مجید سے نکال کر خدا کا کلام پیش کرتا ہے اور اپنے دعوی کے واسطے سنت صحیحہ اور حدیث پیش کرتا ہے ہم کس کو مانیں اور کس کو جانیں کہ وہ عالم اور عامل بالقرآن ہے۔ اس کے آگے آپ فرماتے ہیں ثابت ہے کہ حسین اور اس کے آباء اطہار کو انبیاء و اوصیاء نے سخت تکلیف کے وقت خدا اور اپنے درمیان وسیلہ قرار دیا ہے جس کی وجہ سے ان کی حاجتیں پوری ہوئیں۔ آپ اپنے زعم کی بنیاد مجاہد اور طبرانی اور حاکم وغیرہ کا قول قرار دیتے ہیں اور آیت فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمَت کو اپنے زعم کی تفسیر قرار دیتے ہیں گویا آپ کا قول محمل تھا جو پہلے سے کسی کتاب آسمانی میں درج چلا آتا تھا قرآن نے اس کی تصریح کر دی ہے۔ بریں علم و دانش بباید گریست ۔ اسی فہم لطیف کے بھروسہ پر اپنے مخالف پر طعن کرتے ہیں ذرا انصاف کریں اور اپنی ہی کتابوں کو دیکھیں کہ کیا علماء اور مفسرین امامیہ نے کلمات کی تفسیر میں صرف انہی نامہائے مبارک پر حصر تفسیر رکھا ہے۔ میرے پاس اس وقت تین تفسیریں امامیہ کی موجود ہیں۔ تفسیر عمدۃ البیان، خلاصة المنهج ، مجمع البيان ان میں بہت سے مختلف اقوال درج ہیں پھر حیات القلوب نکال کر جلد اول صفحہ ۵۶ و ۵۷ میں روایات مختلفہ کا حال علی عائری صاحب نے اپنے رسالہ تبصرۃ العقلاء میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اہل بیت کے برابر غیر اہل بیت نہیں ہو سکتا اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ سادات کی جڑ یہی ہے کہ وہ بنی فاطمہ ہیں۔ سوئیں اگر چہ علوی تو نہیں ہوں مگر بنی فاطمہ میں سے ہوں میری بعض دادیاں مشہور اور صیح النسب سادات میں سے تھیں ۔ ہمارے خاندان میں یہ طریق ۴۹ جاری رہا ہے کہ کبھی سادات کی لڑکیاں ہمارے خاندان میں آئیں اور کبھی ہمارے خاندان کی لڑکیاں اُن کے گئیں ۔ ماسوا اس کے یہ مرتبہ فضیلت جو ہمارے خاندان کو حاصل ہے صرف انسانی روایتوں تک محدود نہیں بلکہ خدا نے اپنی پاک وحی سے اس کی تصدیق کی ہے۔ چنانچہ وہ عز وجل ایک اپنی وحی میں جو حکایتاً عن الرسول ہے میرا نام سلمان رکھتا ہے اور فرماتا ہے سلمان منا اهل البيت على مشرب الحسن یعنی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سلمان جو دو سلم کا موجب ہوگا۔ یعنی دو صلح کا موجب ہوگا۔ یہی شخص ہے اور یہ اہل بیت میں سے ہے حسن کے مشرب پر۔ اور پھر ایک اور وحی میں فرماتا ہے الحمد لله الذي جعل لكم الصهر و النسب اس خدا کو تعریف ہے جس نے تمہیں سادات کا داماد بنایا اور نیز نسب عالی بھی عطا کی جس میں خون فاطمی ملا ہوا ہے اور پھر ایک کشف میں جو براہین احمدیہ میں مندرج ہے میرے پر ظاہر کیا گیا کہ میرا سر بیٹوں کی طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ران پر ہے علاوہ اس کے جس شخص کو خدا نے مسیح موعود بنایا صد ہانشان دیئے اور اس کو رسول اللہ صلعم نے ائمہ اہل بیت میں سے قرار ☆ دیا اور اس کو مظہر صفات جمیع انبیاء ٹھہرایا اس کی نسبت یہ زبان درازیاں کرنا خدا اور رسول پر حملہ کرنا ہے۔ منہ ہے۔منہ