اِعجاز المسیح — Page 255
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۵۱ الهدى وإذا قيل لهم آمنوا وأصلحوا ولا تفسدوا قالوا بل أنتم مفسدون۔ اور جب انہیں کہا جائے کہ ایمان لاؤ اور اصلاح کرو اور فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ تم ہی مفسد ہو۔ اور گمراہی وحسبوا الغي رشدًا والفساد صلاحًا فهم لا يرجعون۔ فكيف إذا کو ہدایت اور فساد کو صلاح سمجھتے ہیں اس لئے رجوع نہیں کرتے ۔ سو اس دن کیا حال ہوگا جب کہ ان زهقت نفوسهم وأُظهر ما كانوا يكتمون؟ وإذا قيل لهم أما جاء رأس کی جانیں نکلیں گی اور ان کی چھپائی ہوئی باتیں ظاہر کی جائیں گی۔ اور جب انہیں کہا جائے کہ کیا المائة قالوا بلى فقل أفلا تتقون؟ إن مثل المؤمنين والمكذبين كمثل صدی کا سر نہیں آگیا تو کہتے ہیں ہاں ۔ تو تو ان سے کہہ کیا تم ڈرتے نہیں ۔ مومنوں اور مکذبوں کی مثال حى وميت هل يستويان مثلا؟ فبشرى للذين يُوفّقون۔ وقالوا لست ) زندہ اور مردہ کی مثال ہے کیا دونوں مثال میں برابر ہیں۔ سو خوشخبری ان کے لئے جنہیں توفیق دی جاتی مرسلا بل كذبوا بما لم يحيطوا بعلمه فسوف يعلمون۔ إن الذين ہے اور کہتے ہیں کہ تو مرسل نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اس بات کی تکذیب کرتے ہیں جس کا ان صدقوا أولئك هم المنصورون۔ ولا يرهق وجوههم قتر ولا ذلة ولا کو علم نہیں سوان کو پتہ لگ جائے گا۔ تصدیق کرنے والے ضرور منصور ہوں گے اور ذلت اور رسوائی کی گرد هم يفزعون إن الذين كفروا ما نفعهم خسوف ولا كسوف ولا اُن کے چہروں پر نہ پڑے گی اور نہ انہیں کوئی گھبراہٹ ہوگی ۔ افسوس کفر کرنے والوں کو نہ خسوف آيات أخرى بل هم يستهزء ون۔ يعرفون ثم يبخلون بما آتاهم الله و کسوف نے فائدہ پہنچایا اور نہ دوسرے نشانوں نے بلکہ وہ ٹھٹھا ہی کرتے ہیں۔ پہچانتے ہیں پھر بھی خدا من العلم وانكشف عليهم الهدى ثم لا يهتدون وجنّ عليهم کے دیئے پر بخل کرتے ہیں۔ اور ہدایت ان پر واضح ہوگئی پھر بھی راہ نہیں پاتے۔ اور تعصب کی رات ان ليل من التعصب فهم فيه يُمسون ويصبحون۔ يرون آيات پر پڑی ہوئی ہے اسی میں شام گزارتے ہیں اور اسی میں صبح اپنی آنکھوں سے خدا کے