حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 494

حجة اللہ — Page 232

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۳۲ حجة الله أطلت لسانك كالبغايا وقاحةً ظلمتك جهلا يا أخا الغول فاتق تو نے بدکار عورتوں کی طرح اپنی زبان دراز کی اور اے دیو تو نے اپنے پر ظلم کیا وأعلم أن جموعكم أيها الغوى على حراصٌ لو تُسرون موبقى اور اسے گمراہ میں خوب جانتا ہوں کہ تمہارے گروہ میرے قتل کے لئے سخت حریص ہیں اگر میرے قتل کا موقع پاؤ فأقسمتُ جَهْدًا بالذي هُوَ رَبِّنا سأصلي قلوب المفسدين وأُحْرِقِ پس میں نے خدا تعالیٰ کی قسم کھائی ہے کہ عنقریب میں مفسدوں کے دل جلاؤں گا أكف لساني كل كفّ فَإِنْ تَرُمُ بِخُبث فإنى دامع هامة الشقى میں جہاں تک ممکن ہے زبان کو بند رکھتا ہوں پس اگر تو خبث کا ارادہ کرے تو میں شقی کا سرتوڑنے والا ہوں و أشراك ما قلنا وقد فهتَ بالهجا بكلم أسالتني إليك فَأَغْلَقِ اور میری بات تجھے غصہ میں لائی اور تو پہلے بد گوئی کر چکا ایسے کلموں کے ساتھ جنہوں نے مجھے غصہ دلایا پس میں غصہ کرتا ہوں ولا خير في رفق إذا لم تكن به مواضع رفق تطلب الرفق كالحق اور اس نرمی میں بہتری نہیں جو نرمی کے محل پر نہ ہو ایسا مل جونمی کو چاہتا ہے اورحق کی طرح اس کو مانگتا ہے ولو قَبْلَ سبِّ المُكْفِرين سببتهم لكنتُ ظلوما مُسْرفًا غير متقى اور اگر کافر ٹھہرانے والوں کے گالی دینے سے پہلے میں گالی دیتا تو میں ظالم اور حد سے گزرنے والا اور نا پر ہیز گار ہوتا ولكن هجوا قبلى فأوجب لى الهجا هجاهم فما عُدُوانُ عبدِ مُسَبَّقِ مگر انہوں نے مجھ سے پہلے ہجو کی پس ان کی ہجو نے مجھے ہور برانچیختہ کیا پس اوراس شخص پر کیا الزام جس پر سبقت کئے گئے وقد كفرون وفسقون وإنهم كذئب سطوا أو مثل سيف مُشَقِّق انہوں نے مجھے کافر ٹھہرایا اور فاسق ٹھہرایا اور انہوں نے بھیڑیے کی طرح حملہ کیا یا پھاڑنے والی تلوار کی طرح وما كان قصدى أن أكلم مثلهم ولكنهم قد كلفوني فأقلق اور میری نیت نہ تھی کہ ان کی طرح گفتگو کروں مگر مجھے انہوں نے تکلیف دی پس میں بے آرام کیا گیا۔ لهم صول كلب والتحوّى كحية وعادات سرحان وقلب كخِرُنِقِ ان کا کتے کی طرح حملہ ہے اور سانپ کی طرح پیچ و تاب ہے اور بھیڑیے کی طرح عادتیں ہیں اور خرگوش کا دل ہے