حجة اللہ — Page 222
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۲ حجة الله ۷۴ ملك فلا يُخزى عزيز جنابه إن المقرب لا أبا لك يُكرم وہ بادشاہ ہے اس کی جناب کا عزیز کبھی رسوا نہیں ہوتا اور مقرب ضرور عزت پالیتا ہے كفر وما التكفير منك ببدعة رسم تقادم عهده المتقدم تو مجھے کافر کہتا رہ اور کافر کہنا کوئی بدعت نہیں یہ تو ایک پرانی رسم چلی آتی ہے قد كُفِّرت من قبل صحب نبينا - قالوا لئام كفرة، وهُم هُمُ اس سے پہلے ہمارے نبی ﷺ کے اصحاب کا فر ٹھیرائے گئے اور روافض نے کہا کہ یہ ٹیم کافر ہیں اور ان کی شان وہی ہے جو ہے أنظر إلى المتشيعين ولعنهم ما غادروا نفسا تُعَزُّ وتُكرَمُ شیعوں اور ان کی لعنت کی طرف دیکھ جو کسی ذی عزت کو انہوں نے نہیں چھوڑا جاء تک آیاتی فأنت تكذِّب | شاهدت راياتي فأنت تكتم میرے نشان تیرے پاس آئے اور تو تکذیب کر رہا ہے اور میرے جھنڈوں کو تو نے مشاہدہ کیا اور پھر پوشیدہ رکھتا ہے يا من دنا منى بسيف زجاجة اے وہ شخص جو آبگینہ کی تلوار کے ساتھ میرے پاس آیا فاحذر فإني فارس مستلم مجھ سے ڈر کہ میں سوار زرہ پوش ہوں يدريك من شهد الوقائع أننى بطل وفي صف الوغى متقدم وقائع شناس آدمی تجھے جتلا دے گا کہ میں دلیر ہوں اور جنگ کی صف میں سب سے ؟ لی پہلے كم من قلوب قد شققت جذورها كم من صدور قد كلمتُ وأكلم بہت سے دلوں کی جڑیں میں نے پھاڑ دیں اور بہت سے سینوں کو میں نے زخمی کر دیا اور کرتا ہوں وإذا نطقت فإن نطقى مفحم | سيف فيقطع من يكيد ويجدم اور جب میں بولوں تو میر انطق منہ بند کر نیوالا ہے تلوار ہے پس وہ مکر کر نیوالوں کو کاٹ دیتی ہے حاربت كل مكذب وبآخر للحرب دائرة عليك فتعلم ہر ایک مکذب سے میں لڑا اور سب سے آخر تیرے پر لڑائی کا چکر آئے گا اور پھر تو جان لے گا يا لائمي إن المكارم كلّها في الصدق فَاسْلُكُ سُبُلَ صدق تسلَمُ اے میرے ملامت کر نیوالے تمام بزرگیاں صدق میں ہیں پس صدق کا طریق اختیار کر تا سلامت رہے إن كنت أزمعت النضال فإننا نأتي كما يأتي لصيد ضيغم اگر تو نے مقابلہ کا قصد کیا ہے پس ہم اس شیر کی طرح آئیں گے جو شکار کیلئے آتا ہے