حجة اللہ — Page 142
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۴۲ حجة الله إلى حد أن الشيخ الذي هو للطالبين كسد زرى على مقالي، وتكلم کہ شیخ بٹالہ کہ برائے طالبان مثل دیوار مانع است - بر کلام من عیب جوئی کر د ۔ و در نوبت پہنچ گئی کہ شیخ بٹالہ جو طالبوں کے لئے ایک روک ہے میری کلام پر اس نے نکتہ چینی کی في أقوالى، وقال إن هو إلا قول رقيق وما هو بكلام جزل، بل كسقط سخن من کلام کرد و گفت شک نیست که آں قول زشت است وکلا مے خوب نیست ۔ بلکہ اور کہا کہ وہ قول رکیک ہے اچھا نہیں بلکہ وهزل، وليس من غرر البيان، ولا من محاسن الكنايات والتبيان سخن بے فائدہ و بیهوده است و بیا نے واضح و محاسن کنایات نیست اور عمدہ کلام نہیں ہے غلط اور بیہودہ ہے اور بیان واضح وكل ما رضعتُ في كتبى من الجواهر العربية، والنوادر الأدبية و آں تمام جواہر عربیہ ونو ا در ا د بیه اور نوادر ادبیہ اور لطائف اور وہ تمام جواہر عربیہ واللطائف البيانية، والنكات المبتكرة المصبية، أراد المفسد | و لطائف بیانیه و نکات دلکش که در کتاب خود نشانده بودم ۔ این مفسد بیانیہ اور دلکش نکتے کہ میں نے اپنی کتابوں میں لکھے اس مفسد نے المذكور أن يُطفى نورها، ويمنع ظهورها، ويجعل الناس خواست کہ آں ہمہ نور را منطقی کند چاہا کہ ان کے نور کو بجھا دے منکران و از ظاهر شدن باز دارد و مردم را از اور ظاہر ہونے سے روکے اور لوگوں کو من المنكرين أو المرتابين ومع ذلك ادعى أنه في الأدب رحيب یا شک کنندگان کند و با ایں ہمہ دعویٰ کرد که او در علم ادب فراخ دست منکروں یا شک کرنے والوں میں سے کردے۔ اور پھر اس کے ساتھ یہ دعوی بھی کیا کہ وہ علم ادب میں الباع، خصيب الرباع، ومن المتفرّدين و كذلك خدع الناس | و بسیار مالدار است و از آنان هست که متفر دهستند و همچنیں بہ تلبیس ہائے خود فراخ دست اور بہت مالدار ہے اور ان لوگوں میں سے ہے جو یگانہ ہوتے ہیں اور اسی طرح اپنی حق پوشی سے