حُجة الاسلام — Page 377
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۷۵ شهادة القرآن سواس کا جواب اسلام کی حقانیت کا ثبوت دینا ہے نہ یہ کہ لوگوں پر تلوار چلانا ۔ لہذا خدا تعالیٰ نے ۸۰ مسلمانوں کی حالت کے ہم رنگ پاکر ان کے لئے حضرت مسیح کی مانند بغیر سیف و سنان کے مصلح بھیجا اور اُس مصلح کو دجالیت کے دور کرنے کے لئے صرف آسمانی حربہ دیا اور جیسا کہ عیسی عند منارة دمشق کے لفظوں سے چودہ سو کا عدد مفہوم ہوتا ہے وہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر آیا اور جیسا کہ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ﷺ کے عدد سے ۱۲۷۵ نکلتے ہیں اس زمانہ میں وہ اصلاح خلق کے لئے طیار کیا گیا۔ اور جیسا کہ قرآن کریم نے بشارت دی کہ امواج فتن نصاری کے وقت میں نفخ صور ہو گا ایسا ہی اُس کا ظہور ہوا اور کئی بندگان خدا نے الہام پا کر اُسکے ظہور سے پہلے اُسکے آنے کی خبر دی بلکہ بعض نے بتیس برس پہلے اُس کے ظہور سے اُسکا نام بتلایا اور یہ کہا کہ مسیح موعود وہی ہے اور اصل عیسی فوت ہو چکا ہے اور بہت سے صاحب مکاشفات نے چودھویں صدی کو مسیح موعود کے آنیکا زمانہ قرار دیا اور اپنے الہامات لکھ گئے ۔ اب اس کے بعد ایسے امور میں جن میں ایمان بالغیب کی بھی کچھ گنجائش رکھ لینی چاہیے اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ پھر ما سوا اس کے بعض اور عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں جیسا کہ منشی عبد اللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ۵ / جون ۱۸۹۳ء سے پندرہ مہینہ تک اور پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ۱۸۹۳ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر ۱۸۹۳ء ہے قریبا گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں ایک صادق یا کا ذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں کیونکہ احیا اور امانت دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو خدا تعالیٰ اُس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعا سے ہلاک نہیں کر سکتا خصوصا ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قراردیوے اور اپنی اُس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہر اوے۔ سو پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں کوئی ایسی بات نہیں جو سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ آخرین سے پہلے” و “ لکھنے سے رہ گیا ہے۔ (ناشر) الجمعة : ۴