حُجة الاسلام — Page 162
روحانی خزائن جلد ۶ ١٦٠ جنگ مقدس بیان ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب ۲۷ رمئی ۱۸۹۳ء اول درباره راه نجات و نشانات نجات یافتگان جو جناب مرزا صاحب نے بیان کئے ہیں ہم نے پہلے اس سے بیان کر دیا ہے کہ ہفتہ آئندہ کے شروع میں اس کی بحث پوری شروع ہوگی اس جگہ بھی ہم اس قدرا شارہ کر دیتے ہیں کہ آپ کے لفظ نجات کی تعریف بہت ہی نامکمل ہے اور آپ کو ضرور نہ تھا کہ طریقہ نجات مسیحان کو مصنوعی اور غیر طبعی اور باطل فرماتے ۔ بہر کیف جو آپ نے فرمایا ہے وہ آگے دیکھا جائے گا جب ہماری باری اعتراضات کی ہوگی ۔ دوم ۔ انجیل یوحنا کی باب ۱۰ پیش کردہ آیات کا ہم کافی و وافی جواب دے چکے ہیں آپ نے بجائے اس کے کہ اُس جواب کا کچھ نقص دکھلاتے محض بار بار تکرار ہی اس کا کیا ہے گویا کہ تکرار ہی کافی ہے اور طول کلامی ہی گویا صداقت ہے ۔ یوحنا کے باب ۱۰۔۳۶ میں جہاں لفظ مخصوص اور بھیجا ہوا ترجمہ ہوا ہے ہماری اس شرح پر کہ لفظ مخصوص کا اصل زبان میں بمعنے تقدیس کیا گیا ہے۔ اور بھیجا ہوا اسی پر ایماء کرتا ہے جو اُس نے فرمایا کہ میں آسمانی ہوں اور تم زمینی ہو۔ یہ لفظ جتنے حوالہ آپ نے دیئے ہیں اور کسی بزرگ کے بارہ میں پائے نہیں جاتے ۔ یسعیا ۳ سطروں کے ترجمہ میں لفظ ار خومائی ہے جس کے معنے بھیجا ہوا ہے۔ پہلے سمویل میں لفظ اپسنن ای لو معنے وہی ہیں ۔ پیدائش میں بھی اور برمیا میں لفظ بادی زی جس کے معنے جاتے ہیں اور یہ الفاظ مقام متنازعہ کے لفظ می گی آسے سے بہت ہی متفرق ہیں اور ان الفاظ کا تعلق متفرق ہیں اور ان الفاظ کا تعلق مقام متنازعہ سے۔ کچھ نہیں ہے اور جو ہم نے کہا وہ درست ہے کہ جس کو خدا نے مخصوص کیا اور بھیجا یعنی آسمان سے بھیجا۔ سوم ۔ کیا یہودی لوگ اسرائیل وغیرہ کو اسی لقب کے باعث کافر سمجھتے تھے ۔ یہ جناب کا سوال ہے ۔ جواب اس کا ہم بار بار دے چکے مگر افسوس کہ جناب کسی باعث سے