حُجة الاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 502

حُجة الاسلام — Page 144

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۴۲ جنگ مقدس وہ ہو تو یہ ہوتی ہو یا نہ ہو وہ نا ہو تو سب کا سب فنا ہو توحید کا علم تو بائبل میں بھی موجود تھا۔ الا اس کلمہ توحید سے نجات کا کیا علاقہ ہے۔ کیا یعقوب حواری کے خط کے دوسرے باب ۱۹ میں یہ بہت ٹھیک اور واجباً نہیں فرمایا گیا کہ تو کہتا ہے کہ خدا ایک ہے۔ شیطان بھی کہتا ہے بلکہ تھراتا بھی ہے۔ توریت کے مضمون کے چار حصہ میں ماسواء امور اثباتیہ کے یعنی شریعت اخلاقی ۔ شریعت رسمیاتی ۔ شریعت قضائی اور قصص۔ اب یہ سارے امور ٹے پالوجی کے ہیں یعنی نشانات تصویری کے سے۔ چنانچہ اخلاقی میں احتیاج دکھلایا گیا ہے اور رسمیاتی میں مایحتاج دکھلایا گیا ہے اور قضائی میں تھی اوکر سے ) دکھلائی گئی۔ یعنی وہ سلطنت جو خدائے مقامات کو تعالیٰ بلا واسطہ غیر کے خود کرتا ہے اور قصص جن میں تصویر کے نشانات بھرے ہیں ۔ ان ۔ اب اس جگہ اگر ہم لکھیں تو بہت طول ہو جاتا ہے ہم اس کے واسطے اپنی کتاب اندرونہ بائبل کو پیش کرتے ہیں کہ جس سے یہ سب حال ظاہر ہو جائے گا۔ انجیل میں انہیں نشانات کا صاحب نشان دکھلایا ہے پس یہ متفرق شریعتیں کیونکر ہوئیں ۔ البتہ قرآن کی شریعت ان کے سوا ہے جو مخصوص ساتھ قرآن کے ہے اس کا بار ہم پر کچھ نہیں لیکن آپ پر ہے۔ (۴) صداقت محتاج دلیل کی کیونکر ہے کیا وہ خود ہی اپنی مراد پر دال نہیں اس کے واسطے اور تصفیہ آپ کیا چاہتے ہیں کیا وہ آیات جو ہم نے اس فہرست میں پیش کی ہیں ان میں کوئی ناصاف بھی ہے۔ (۵) ہم سے جو استفسار یہ ہے کہ مسیح نے کیا بنایا تھا۔ خدا نے تو زمین و آسمان اور سب چیزیں بنائیں۔ بجواب اس کے عرض ہے کہ بہ حیثیت انسانیت کے تو اس نے کچھ نہیں بنایا۔ لیکن بحیثیت مظہر اقنوم ثانی کے باب ۸۔ امثال و ایک باب یوحنا میں یوں لکھا ہے جو کچھ بنا ہے اسی کے وسیلہ بنا ہے اور کہ باپ کو کسی نے دیکھا تک نہیں مگر بیٹے نے خلق کرنے کے وسیلہ سے اسے جتلا دیا۔ (۷) ہم نے خداوند مسیح کا ڈرنا نہیں کہا بلکہ ان کا بے جا غصہ فرو کرنا کہا ہے۔ (۸) مسیح نے تعلیم سلف کو پیچیدہ نہیں کیا بلکہ پیچیدہ کو صاف کیا ہے۔ چنانچہ اس نے مظہر اللہ ہو کر وہ صفات ظاہر کیں جو اور طرح سے ظاہر نہ ہو سکتی تھیں۔ جیسا کہ متی ۶ - ۹ خدا کا باپ ہونا ۔ یوحنا ۳-۱۶ خدا محبت ہے۔ یوحنا کا م خدا روح ہے۔ کثرت فی الوحدت توریت میں