حُجة الاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 502

حُجة الاسلام — Page 108

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۰۶ جنگ مقدس کی کیا ضرورت ہے۔ کیا ہم انسان کو مظہر انسان کہا کرتے ہیں۔ ایسا ہی اگر حضرت مسیح کی روح انسانی روح کی سی نہیں ہے اور انہوں نے مریم صدیقہ کے رحم میں اس طریق اور قانون قدرت سے روح حاصل نہیں کی جس طرح انسان حاصل کرتے ہیں ۔ اور جو طریق طبابت اور ڈاکٹری کے ذریعہ سے مشاہدہ میں آچکا ہے۔ تو اول تو یہ ثبوت دینا چاہیے کہ ان کے جنین کا نشو و نما پانا کسی نرالے طریق سے تھا اور پھر بعد اس کے اس عقیدہ کو چھپ چھپ کر خوفزدہ لوگوں کی طرح اور پیراؤں اور رنگوں میں کیوں ظاہر کریں بلکہ صاف کہہ دینا چاہیے کہ ہمارا خدا مسیح ہے اور کوئی دوسرا خدا نہیں ہے جس حالت میں خدا اپنی صفات کاملہ میں تقسیم نہیں ہو سکتا اور اگر اس کی صفات تامہ اور کاملہ میں سے ایک صفت بھی باقی رہ جائے تب تک خدا کا لفظ اس پر اطلاق نہیں کر سکتے ۔ تو اس صورت میں میری سمجھ میں نہیں آ سکتا کہ تین کیونکر ہو گئے ۔ جب آپ صاحبوں نے اس بات کو خود مان لیا اور تسلیم کر لیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے ضروری ہے کہ وہ مستجمع جميع صفات کا ملہ ہو تو اب یہ تقسیم ؟ ی تقسیم جو کی گئی ہے کہ ابن الله کامل خدا۔ اور باپ کامل خدا۔ ب کامل خدا اور روح | القدس کامل خدا اس کے کیا معنے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ یہ تین نام رکھے جاتے ہیں کیونکہ تفریق ناموں کی اس بات کو چاہتی ہے کہ کسی صفت کی کمی و بیشی ہو۔ مگر جب کہ آپ مان چکے کہ کسی صفت کی کمی و بیشی نہیں تو پھر وہ تینوں اقنوم میں ما بہ الامتیاز کون ہے جو ابھی تک آپ لوگوں نے ظاہر نہیں فرمایا۔ جس امر کو آپ ما بہ الامتیاز قرار دیں گے وہ بھی منجملہ صفات کاملہ کے ایک صفت ہوگی جو اس ذات میں پائی جانی چاہیے جو خدا کہلاتا ہے۔ اب جب کہ اس ذات میں پائی گئی جو خدا قرار دیا گیا تو پھر اس کے مقابل پر کوئی اور نام تجویز کرنا یعنی ابن اللہ کہنا یا روح القدس کہنا بالکل لغو اور بے ہودہ ہو جائے گا۔ آپ صاحب اس میرے بیان کو خوب سوچ لیں کیونکہ یہ دقیق مسئلہ ہے ایسا نہ ہو کہ جواب لکھنے کے وقت یہ امور نظر انداز ہو جائیں۔ خدا وہ ذات ہے جو تجمع جمیع صفات کاملہ ہے اور غیر کا محتاج نہیں اور اپنے کمال میں دوسرے کا محتاج نہیں اور جو مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے