حُجة الاسلام — Page 98
روحانی خزائن جلد ۶ ۹۶ جنگ مقدس دوسرا پرچه مباحثه ۲۳ رمئی ۱۸۹۳ء رونداد آج پھر جلسہ منعقد ہوا ۔ اور آج پادری جے ایل ٹھاکر داس صاحب بھی جلسہ میں تشریف لائے یہ تحریک پیش ہوئی اور باتفاق رائے منظور ہوئی کہ کوئی تحریر جو مباحثہ میں کوئی شخص اپنے طور پر قلمبند کرے قابل اعتبار نہ سمجھی جائے جب تک کہ اس پر ہر دو میر مجلس صاحبان کے دستخط نہ ہوں ۔ اس کے بعد ۶ بجے ۳۰ منٹ او پر مرزا صاحب نے اپنا سوال لکھانا شروع کیا اور ان کا جواب ختم نہ ہوا تھا کہ ان کا وقت گزر گیا ۔ اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب اور میر مجلس عیسائی صاحبان کی طرف سے اجازت دی گئی کہ مرز صاحب اپنا جواب ختم کر لیں اور ۱۶ منٹ کے زائد عرصہ میں جواب ختم کیا بعد ازاں یہ قرار پایا کہ مقررہ وقت سے زیادہ کسی کو نہ دیا جائے ۔ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے آٹھ بجے 11 منٹ پر جواب لکھا نا شروع کیا۔ درمیان میں فہرست آیات کے پڑھے جانے کے متعلق تنازعہ میں صرف ہوا یعنی ۵ منٹ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کے وقت میں ایزاد کئے گئے ۔ اور ۹ بجے ۱۶ منٹ پر جواب ختم ہوا ۔ مرزا صاحب نے ۹ بجے ۲۷ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ۱۰ بجے ۲۷ منٹ پرختم ہو گیا ۔ اور بعد ازاں فریقین کو ریقین کی تحریروں ریروں پر میر مجلس صاحبان کے دستخط کئے گئے اور تحریریں فریقین کو دی گئیں اور جلسہ برخاست ہوا ۔ دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی هنری مارٹن کلارک (پریزیڈنٹ ) غلام قادر فصیح ( پریزیڈنٹ ) از جانب عیسائی صاحبان از جانب اہل اسلام