حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 550

حقیقة المہدی — Page 60

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۶۰ نجم الهدى ومع ذالك كنتُ حرَّجت على اور باوجود اس کے میں نے اپنے نفس پر پی تنگی کر نفسى أن لا أتبع إلهاما أو كرر من رکھی تھی کہ میں کسی الہام کی پیروی نہ کروں مگر بعد اس کے کہ بار بار خدا تعالیٰ کی طرف سے اس الله إعلاما ويوافق القرآن والحديث کا اعلام ہو اور قرآن اور حدیث سے بکلی موافق ہو مرامًا، وينطبق انطباقا تماما ۔ اور پوری پوری مطابقت ہو ۔ پھر اس کارروائی کیلئے ثم كان شرط منى لهذا الإيعاز أن ایک یہ شرط بھی میری طرف سے تھی کہ میں الہام لا أقبله من غير أن أنظر إلى الاحياز، کے بارے میں اس کے کناروں تک ومن غير أن أشاهد بدائع الإعجاز ۔ نظر ڈالوں اور بغیر مشاہدہ خوارق کے قبول نہ فوالله رأيت في إلهامي جميع هذہ کروں ۔ پس بخدا کہ میں نے ا نے اپنے الہام میں الأشراط، ووجدته حديقة الحق لا ان تمام شرطوں کو پایا اور میں نے اس کو سچائی کا باغ دیکھا نہ اس خشک گھاس کی طرح جس كالحماط۔ ثم كان هذا بعد ما میں سانپ ہو ۔ پھر یہ الہام اس وقت مجھے ملا استطارت صدوع كبدى من الحنين إلى ربّى وصمدى، ومن جبکہ میرے جگر کے ٹکڑے خدا تعالیٰ کے شوق میں اڑے اور عشاق الہی کی موت میرے پر ميتة العشاق، وأحرقت بأنواع آئی اور کئی قسم کے جلانے سے میں جلایا گیا الإحراق، وصدمت بالأهوال اور کئی قسم کے خوفوں سے میں کوٹا گیا نفس خود را تنگ گرفته و پابند آن بودم که در پے بیچ الہامے نروم تا آنکه مکرراً از جانب خدا عز اسمه آگاهی داده شوم و با وجود آن با قرآن و حدیث موافقت کلی و مطابقت تامه داشته باشد۔ و بعلا وه بر خود لازم کرده بودم که نگا ہے دقیقی در همه اطراف الهام بیندازم و زنها ر آنرا قبول نکنم تا آنکه خوارق عجیبه و اعجاز کامل ہمراہ آں نیا بم ۔ اکنوں سوگند بخدائی بزرگ یاد می کنم می گویم که این شرائط را بتمامها در الهام خود موجود می بینم و آنرا با نے سر سبز و آراستہ می بینم نہ چوں آں گیا ہے کہ مار در زیر آں پنہاں باشد ۔ وقطع نظر ازین همه این الهام وقتی نصیب من شد که از شوق الہی جگر من پاره پاره شد وموت عشاق بر من وارد آمد و از گوناگون آتشها بسوختم و از اقسام خوفها کوفته گردیدم و