حقیقة المہدی — Page 36
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۶ نجم الهدى ولا تبقى الضوضاة لعامة الأهواء۔ فتح ہو جاتا ہے اور ہوا و ہوس کے عوام کا شور باقی نہیں ويقال لمن الملك اليوم ۔ لله ذی رہتا اور کہا جاتا ہے کہ آج کس کا ملک ہے اور یہ جواب ہوتا ہے کہ خدائے ذوالمجد والکبریا کا۔ مگر جو المجد والكبرياء۔ وأما مرتبة مرتبه اخلاق فاضلہ اور نیک خصلتوں کا ہے اُس میں الأخلاق الفاضلة والخصال الحسنة غفلت کے وقت دشمنوں سے امن نہیں ہے کیونکہ جن لوگوں کا سلوک اخلاق تک ہی محدود ہوتا ہے ان کیلئے ابھی ایسے قلعے باقی ہوتے ہیں جن کا فتح کرنا عند الغفلة، فإن لأهل الأخلاق تبقى مشکل ہوتا ہے اور ان کی نسبت یہ اندیشہ دامنگیر رہتا حصون يتعذّر عليهم فتحها، ويُخاف ہے کہ نفس امارہ اپنی بھوک کے بھڑکنے کے وقت عليهم صول الأمارة إذا ضرم لتحها، حملہ نہ کرے اور جو شخص صرف اخلاق تک ہی اپنا کمال رکھتا ہے اس کی زندگی کے دن گرد و غبار سے المحمودة ، فلا أمن فيها من الأعداء | ولا تصفوا أيام أهلها من النقع الثائر، پاک نہیں رہ سکتے اور ایسے لوگ ہوائی تیروں سے ولا يُؤمنون من السهم العائر ۔ امن میں نہیں رہ سکتے ۔ فالحاصل أن هذه تعاليم | پس حاصل کلام یہ ہے کہ یہ جو ہم نے بیان کیا ہے یہ قرآن شریف کی تعلیمیں ہیں اور الفرقان، وبها استدارت الہی تعلیموں کے ساتھ انسان کی تکمیل علمی اور دائرة تكميل نوع الإنسان عملی کا دائرہ اپنے کمال کو پہنچتا ہے ۔ و عوام ہوا و ہوس را سر فتنه و شورش کوفته گردد و آن وقت گفته شود که امروز ملک کر است جواب باشد خدائے بزرگ یگانہ بے ہمتار است اما آنچہ مرتبۂ اخلاق فاضلہ و خو ہائے نیک می باشد دراں مرتبہ در هنگام غفلت ایمنی از دشمنان نتواند بود۔ چه اهل اخلاق را هنوز قلعهاست که فتح آن بر ایشان خیلی دشوار است و اندیشه بسیار است که نفس اماره در وقت اشتعال برایشان بتاز در حقیقت هر که تا بمنزل اخلاق رخت بیاندازد نمی شود روز گار حیاتش از گردو غبار پاک باشد و هرگز نمی شود همیچوں کسان از تیر ہوائی ایمن و مطمئن بگردند ۔ خلاصه این تعلیم فرقان است و همین است آنچه دائره تکمیل علمی و عملی انسان را بکمال رساند۔