حقیقة المہدی — Page 27
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۷ نجم الهدى ما الـتـقــى وما خصال المتقين، وما كان خصلتیں کیا چیز ہیں۔ اور اُن میں کوئی ایسا نہ تھا فيهم من كان صادقا في الكلام غیر کہ جو کلام میں صادق اور فیصلہ مقدمات میں جافٍ عند فصل الخصام۔ فبينما هم في متصف ہو۔ پس اسی زمانہ میں جب کہ وہ لوگ تلك الأحوال وأنواع الضلال ان حالات اور ان فسادوں میں مبتلا تھے اور ان والفساد في الأقوال والأعمال کا تمام قول اور فعل فساد سے بھرا ہوا تھا۔ والأفعال۔ اذ بعث فيهم رسول من خدا تعالیٰ نے مکہ میں سے اُن کیلئے رسول پیدا أنفسهم في بطن مكة، وكانوا لا کیا اور وہ نہیں جانتے تھے کہ رسالت اور نبوت يعلمون الرسالة والنبوة وما بلغهم رس کیا چیز ہے اور اس حقیقت کی کچھ بھی خبر نہ تھی من أخبارها وما دروا هذه الحقيقة پس انکار اور نافرمانی کی اور اپنے کفر اور فسق پر فأبوا وعصوا وكانوا على كفرهم وفسقهم مصرين۔ وحمل رسول الله اصرار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن صلى الله عليه وسلم كل جفائهم وصبر کے ہر ایک جفا کی برداشت کی اور ایذا پر صبر کیا على إيذائهم، ودفع السيئات بالحسنة، اور بدی کو نیکی کے ساتھ اور بغض کو محبت کے ساتھ والبغض بالمحبة، ووافاهم كالمحبين | ٹال دیا اور غمخواروں اور محبوں کی طرح اُن کے ازیں کہ پرہیز گاری و خوہائی پرہیز گاران کدام چیزی می باشد۔ در میانه انها کسی راست گفتار و در وقت بر پاشدن قضیه ها نصفت کا رونیک کردار نبود۔ در اثنائی این حال که بد گفتاری و بدکرداری و کجره روی نوبت انها بدینجا رسیده بود که پیغمبری از یشان در مکہ مکرمہ ظہور فرمود و ایشان قبل ازان از رسالت و نبوت آگاه وگاہی کی بہ کنہ آں نبرده بودند ۔ پس نتیجه آن بود که گردن کشیدند و بر کفر و بدکاری اصرار ورزیدند و رسول خدا (صلی اللہ علیہ وسلم ) هر گونه آزار را از آنها برداشت و هرگز نا شکیبائی را بخود راه نداد و بدی را با نیکی و دشمنی را با دوستی پاداش میفرمود و چون یاران غمگسار با انها رفتار می نمود در بد