حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 550

حقیقة المہدی — Page 23

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳ نجم الهدى مستغيثا ۔ وكذالک ترکوا ضوء اُن ہی کے آگے فریاد کرتا تھا ۔ اور اسی طرح انہوں نے روشنی کو چھوڑا رات کو اپنا قیام گاہ بنایا النهار واتخذوا الليل مقاما اور اندھیرے سے پیار کر کے رات میں داخل وأدلج كل فيه وأحبّوا ظلامًا۔ وكانوا ہوئے اور بتوں کے ساتھ وہ لوگ ایسے خوش ہوتے تھے جیسا کہ کوئی ایک مراد پا کر خوش ہوتا يهتزّون بهـا هـزة من فاز بالمرام، او ہے یا جیسا کہ وہ شخص خوش ہوتا ہے جس کے قابو كمن أكتبه قنص فأخذه من غير رمی میں آسانی سے جنگلی شکار چڑھ جاتا ہے اور بغیر تیر السهام، وكانوا قد علق بقلبهم أنهم مارنے کے پکڑا جاتا ہے۔ اور ان کے دل میں یہ ذہن نشین تھا کہ ان کے بت تمام مرادیں ان کی يُعطون كل مرادهم من دے سکتے ہیں اور وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ الأصنام، وحسبوا أن الله منزّه عن خدا تعالیٰ ان تکالیف سے کہ کسی کو مراد دیوے اور کسی کو پکڑے پاک اور منزہ ہے اور اس نے تلك الاهتمام، وزعموا أنه أعطى یہ تمام قوتیں اور قدرتیں جو عالم ارواح اور لآلهتهم قوة وقدرة في عالم الأرواح اجسام کے متعلق ہیں اُن کے بتوں کو دے رکھی والأجسام و كساهم رداء الوهيته ہیں اور عزت بخشی کے ساتھ الوہیت کی چادر ساحت روز روشن برون رفتند و در کنج تنگ و تا رشب جا گرفتند و با بتان آنچنان خرم و شاد می زیستند که شخصی که کام جانش در کنار آمد یا مانند کسی که نخچیرے آسان در چنبر ا و افتاد و بے انداختن تیرے برا و دست یافت ۔ یقین انها بود که بت ہا تو انائے ہر چہ تمامتر بر برآوردن هر گونه کام دارند و خدا را از این چپقلش و دار و گیر که کسی را کام روا کند و کسی را بگیرد برتر و بلند می پنداشتند و گمان داشتند که و گمان داشتند که خدا همه قدرت وقوت که تعلق بعالم اجسام و ارواح دارد بت ہارا سپرده و از راه آبرو افزائی و بندہ پروری دیهیم و افسر الوہیت بر فرق انہا نہادہ۔