حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 435 of 550

حقیقة المہدی — Page 435

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۳۵ حقيقت المهدى چشم بکشا ایں جہان کور را اے شدید البطش بنما زور را ز آسمان نور نشان خود نما یک گلی از بوستان خود نما از حقائق غافل و بیگانه اند ایں جہان بینم پر از فسق و فساد غافلاں را نیست وقت موت یاد ہمچو طفلاں مائلِ افسانہ اند سرد شد دلها زمہر روئے دوست روئے دلہا تافته از کوئے دوست سیل در جوش است و شب تاریک و تار از کرمہا آفتابی را بر آر چونکہ قدیم سے یہی زمانہ کی عادت ہے کہ جب کسی قوم میں کوئی ایسا فرقہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قوم کی نظر میں اس فرقہ کے اصول اور عقائد ان کے اپنے اصول اور عقیدوں کے برخلاف ہوتے ہیں تو اس قوم کے سر گروہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ اس فرقہ کو کسی طرح نابود کر دیں اور ہمیشہ یہی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ قوم کے سامنے اور نیز گورنمنٹ کے سامنے ان کو بد نام کریں ۔ سو یہی معاملہ اس ملک کے بعض مولویوں نے مجھ سے کیا ہے۔ جن میں سے ایک دشمن اور مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ ہے۔اس بے چارے نے میری بدخواہی کے لئے اپنا آرام حرام کر دیا۔ بٹالہ سے بنارس تک اپنا قابل شرم استفتاء لے کر میرے کفر کی نسبت مہریں لگواتا پھرا اور پھر جب فقط ایسی کارروائی پر اس کی طبیعت خوش نہ ہوئی تو گورنمنٹ تک خلاف واقعہ یہ باتیں میری نسبت پہنچا تا رہا کہ شخص در پردہ باغی ہے اور مہدی سوڈانی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ حالانکہ آپ ہی اپنے اشاعۃ السنة میں میرے بارے میں یہ مضمون شائع کر چکا تھا کہ اس شخص کی نسبت بغاوت کا خیال دل میں لانا کمال درجہ کی بے ایمانی ہے اور بار بار لکھ چکا تھا کہ میں اپنی ذاتی واقفیت سے گواہی دیتا ہوں کہ یہ شخص اور اس کا والد مرزا غلام مرتض کہ یہ شخص اور اس کا والد مرزا غلام مرتضی صاحب گورنمنٹ انگریزی کے خیر خواہ جاں نثار ہیں ۔ غرض جب اس دانا گورنمنٹ نے اس حاسد کی باتوں کی طرف