حقیقة المہدی — Page 418
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۱۸ ايام الصلح حیران ہوں کہ یہ کیسی سمجھ ہے؟ ان دلوں کو کیا ہو گیا اور کیسے پردے پڑ گئے؟ اس پیشگوئی کی نسبت تو ۱۷۰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خبر دی تھی اور مکد بین پر نفرین کی تھی اور براہین احمدیہ میں بھی ایک مدت پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کیا ضرور نہ تھا کہ آتھم شرط کے موافق زندہ رہتا؟ ہاں قطعی الہام دوسرا تھا جس کے بعد وہ جلد فوت ہو گیا۔ بہر حال خدا کا کام دیکھو کہ اُس نے اپنی پیشگوئی کی عزت کے لئے آتھم کو نہ چھوڑا ۔ افسوس اُن لوگوں پر کہ جو ایسے صریح نشان سے منہ پھیرتے ہیں۔ قوله لیکھرام کی پیشگوئی میں اس کے قتل ہونے کی تصریح نہیں ۔ اقول - لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ - آؤ ہمارے رُوبرو ہماری کتابیں دیکھو جن میں متفرق مقامات میں یہ پیشگوئی درج ہے۔ پھر اگر تصریح ثابت نہ ہو تو اُسی جلسہ میں آپ کو دو تور و پیہ انعام دیا جائے گا۔ قوله - پیشگوئی سے لیکھرام کی بے عزتی نہیں ہوئی بلکہ شہید قوم اُس کو خطاب ملا اُس کے متعلقین کے لئے ہزار ہا روپیہ چندہ جمع کیا گیا۔ اقول ۔ اس سے ہماری پیشگوئی کی اور بھی شان بڑھی ہے کیونکہ یہ بھی ایک جنگ تھا۔ اور ظاہر ہے کہ فریق مخالف کے جس سپاہی کو قتل کیا جائے اور اس سپاہی کو مخالف فریق کے لوگ بڑا بہادر اور بڑا شجاع قرار دیں اور ایک بڑا آدمی اُس کو سمجھا جائے تو وہ تمام تعریف قاتل کی ہوتی ہے جس نے ایسے بہادر کو مارا۔ سوا گر لیکھرام کو مارے جانے کے بعد ایک ذلیل اور کس میرسد سمجھا جاتا تو بلا شبہ اس سے ہماری پیشگوئی کی وقعت کم ہوتی کیونکہ یہ سمجھا جاتا کہ جس پر پیشگوئی پوری ہوئی وہ کوئی بڑا آدمی نہیں ہے اور صید رکیک ہے جو قابلِ تعریف نہیں مگر اب تو لیکھرام کو اُس کی قوم نے بڑی عظمت دے دی اور اب یہ واقعہ مقتول کی حیثیت کے رو سے بھی قابل عظمت ہو گیا ۔ خود سوچ کر دیکھو کہ اگر ایک پیشگوئی ایک بادشاہ کی نسبت پوری ہوا اور دوسری ایک بھنگن عورت کی نسبت تو کونسی پیشگوئی جلد شہرت پاتی اور عظمت اور تعجب کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ سو چونکہ لیکھرام کو بڑا آدمی بنایا گیا ہے اس لئے بخیال وجوہات بالا میں اس قدر خوش ہوں کہ اندازہ نہیں ہو سکتا اور میں جانتا ہوں کہ